سلسلہ احمدیہ — Page 85
85 کے قیام کی ضرورت شدت سے محسوس ہو رہی تھی۔حضرت خلیفہ المسح الرابع رحمہ اللہ تعالی نے 18 مئی 1984ء کو خطبہ جمعہ میں ایک عظیم الشان جامع پروگرام کا اعلان فرمایا جس کا ایک اہم پہلو دو نئے یورپین مراکز کے قیام کی تحریک پر مشتمل تھا۔ان میں سے ایک انگلستان میں اور ایک جرمنی میں بننا تھا۔ناصر باغ حضور رحمہ اللہ کی تحریک پر جماعت جرمنی نے والہانہ انداز میں لبیک کہنے کی سعادت پائی اور فرانکفورٹ سے قریباً35 کلومیٹر دور گروس گیراؤ (Gros Gerau) نامی شہر کے نواح میں ایک وسیع قطعہ اراضی خریدنے کی توفیق پائی۔اس جگہ پہلے ایک تفریحی پارک تھا اور حضرت خلیفہ اسیح الثالث یہاں متعدد مرتبہ سیر کے لئے تشریف لا چکے تھے اور حضور کو یہ جگہ بہت پسند تھی۔یہی وجہ تھی کہ اس کی خرید کے بعد حضرت خلیفتہ المسیح الرابع رحمہ اللہ نے اسے ناصر باغ کا نام عطا فرمایا۔ناصر باغ کا کل رقبہ 28968 مربع میٹر ہے۔اس قطعہ اراضی پر ابتدا میں لکڑی سے بنی ہوئی ایک عمارت تھی جس کے ہال میں مسجد قائم کی گئی اور بقیہ عمارت میں جماعت کے مرکزی دفاتر بنائے گئے جبکہ ایک حصہ میں حضور کی ہدایت کے مطابق محترم عبداللہ واکس باؤ زر صاحب امیر جمات جرمنی نے رہائش اختیار کی۔1989ء میں یہاں آگ لگ جانے سے لکڑی کی ساری عمارت جل گئی جس کے بعد یہاں جماعت جرمنی کا سب سے بڑا وقار عمل ہوا جس میں سینکڑوں احباب جماعت نے محترم مبشر احمد باجوہ شہید ریجنل امیر فرانکفورٹ اور محترم چوہدری عبدالعزیز ڈوگر صاحب مرحوم ( چوہدری صاحب موصوف کو حضور نے خصوصی طور پر تعمیراتی کام کے لئے جرمنی بھجوایا تھا) کی نگرانی میں کئی ماہ تک سخت محنت کر کے جدید سہولتوں سے آراستہ ایک بہت بڑا کمپلیکس تعمیر کیا۔جس میں سطح زمین پر مردوں کے لیے اور نہ خانہ میں مستورات کے لئے ایک وسیع مسجد بیت الشکور کے علاوہ ایک ہال اور متعدد دفاتر شامل تھے۔اس کا افتتاح 13 اپریل 1993 ء کو ہوا۔اس وسیع اراضی کے ملنے کے بعد جماعت کو اپنے جملہ پروگراموں کے لیے موزوں جگہ میسر آگئی