سلسلہ احمدیہ — Page 61
61 دور میں آمریت نے ملک میں صوبائی ، لسانی اور فرقہ وارانہ عصبیتوں کو ہوا دی اور بطور خاص احمدیوں کی کردار کشی کے لئے سرکاری سطح پر ایک منظم مہم چلائی تو مولویوں کے ایک مخصوص گروہ نے شہ پا کر ملک کی پُرامن فضا کو مکڈر کر دیا۔اس گاؤں میں پہلے مشترکہ مسجد سے احمدیوں کو بے دخل کیا گیا۔جب احمدیوں نے اپنی زمین پر مسجد کی تعمیر شروع کی تو عدالت سے حکم امتناعی حاصل کر کے اس کی تعمیر رکوادی گئی۔1989ء میں جماعت احمدیہ کی صد سالہ جوبلی کے بعد سے وہاں حالات کی کشیدگی میں اضافہ ہوا اور احمدیوں کو شدید تنگ کیا جا رہا تھا۔احمدیوں کے مکانوں پر حملے کئے گئے، دروازے توڑے اور جلائے گئے۔ایک گھر کی چھت اکھیڑی گئی۔ایذا رسانی اور مخالفت کی اس کیفیت کو احمدی نہایت صبر سے برداشت کرتے رہے۔ضلعی انتظامیہ اور پولیس کو بار بار بتایا گیا کہ گاؤں کا امن برباد ہو چکا ہے۔احمدیوں کا مالی نقصان بھی ہو چکا ہے اور ان کی جانیں بھی خطرے میں ہیں لیکن پولیس نے ایک آدھ بار گاؤں کا چکر لگا کر واپس جانے کے سوا کوئی اقدام نہیں کیا۔آخر 16 جولائی 1989ء کو ایک سوچی سمجھی سکیم کے تحت مذہب کے چند علمبرداروں نے قتل وغارت گری کا مظاہرہ کرتے ہوئے احمدیوں پر وہ انسانیت سوز مظالم ڈھائے جن کے بیان سے قلم لرزتا ہے۔سب سے پہلے گاؤں کے راستوں کی ناکہ بندی کی گئی اور پھر منظم طریق پر احمدی گھروں کو آگ لگانی شروع کی گئی۔مال و اسباب لوٹا گیا اور مخالفین نے اپنے گھروں کی چھتوں سے احمدیوں پر فائرنگ شروع کر دی۔اسی اثناء میں پولیس پہنچ گئی۔پولیس نے احمدیوں کو اپنا دفاع کرنے سے روک دیا۔ان کو اپنے لائسنس یافتہ ہتھیار جمع کرانے کو کہا گیا۔ایک احمدی نذیر احمد ساقی کو، جو اپنے مکان کی چھت پر تھے، پولیس نے نیچے بلایا۔جب وہ نیچے آئے تو پولیس کی موجودگی میں ایک مخالف نے ان پر فائر کر کے ان کو شہید کر دیا۔اس دوران مخالفین احمدی گھروں کو آگ لگاتے رہے۔اس سانحہ میں ایک سو سے زائد احمدی گھر جلائے گئے۔اور کوشش کی گئی کہ احمدیوں کو ان کے گھروں کے اندر زندہ جلا دیا جائے۔آگ سے بچ کر اور انگاروں پر سے گزرتے ہوئے جو احمدی باہر آرہے تھے ان پر فائر کھول دیا گیا۔چنانچہ محمد رفیق ولد خان محمد صاحب اور ایک بچی عزیزہ نبیلہ بنت مشتاق احمد صاحب اس۔