سلسلہ احمدیہ — Page 749
749 آنحضرت ﷺ سے بڑھ کر کسی کے لیے اخلاق کا دعویدار ہونے کا کوئی وہم و گمان بھی نہیں آسکتا۔پس اگر خدا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو مخاطب کر کے یہ فرماتا ہے کہ تو اپنے اخلاق حسنہ کے باوجود یہ دل نہیں جیت سکتا تھا، ان کو اکٹھا نہیں کر سکتا تھا جب تک میری رحمت شامل حال نہ ہوتی۔تو اس کے مقابل پر آپ کیا ہیں؟ آپ کی کیا حیثیت ہے؟ اگر چہ دلوں کو جیتنے کے لیے اخلاق حسنہ ضروری ہیں مگر صرف انہی پر انحصار نہیں کرنا۔خدا کی رحمت پر انحصار کرنا ہے اور اس کے لیے آپ کو لازما دعا گو ہونا پڑے گا۔اس کے لیے لازما خدا سے تعلق باندھنے ہوں گے۔اور دنیا کو نظر آئے یا نہ آئے آپ کو معلوم ہونا چاہیے کہ آپ خدا کے بندے بن چکے ہیں۔آپ خدا کے نمائندہ بن چکے ہیں۔پس یہ وہ آخری میرا پیغام ہے جسے آپ کو لازماً سمجھنا چاہیے اور اس کی اہمیت کو دلنشین کرنا چاہیے۔“ آپ نے فرمایا: پیغامبر کئی قسم کے ہوا کرتے ہیں۔ایک زبان کے ذریعے پیغام کا حق ادا کرنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں اور جہاں تک ان کا بس چلتا ہے منطقی دلائل کے ذریعے اپنے پیغام کی فضیلت کو لوگوں پر ثابت کرتے رہتے ہیں۔مگر کتنے دل ہیں جو اس سے بدلے جاتے ہیں۔دلوں کی تبدیلی حقیقت میں اس کے بعد دو مراحل سے تعلق رکھتی ہے اور یہ بات میں آپ کو اپنے وسیع تجربہ کی بنا پر کہ رہا ہوں۔دوسرا مرحلہ دلوں کو اخلاق حسنہ سے جیتنے کا مرحلہ ہے۔اور اس کے بغیر حقیقت میں پیغام کو قبول کرنے کے لیے کوئی قوم تیار ہو ہی نہیں سکتی۔پھر بھی جب آپ اس مرحلے پر فتح حاصل کر لیں تو آپ کو کچھ کمی محسوس ہوگی۔آخری فیصلہ کرنے کے لیے لوگ ڈرتے ہوئے دکھائی دیں گے۔کئی دفعہ اتنے قریب آجاتے ہیں اور اتنے قریب رہتے ہیں کہ آدمی حیران ہوتا ہے کہ اس کے باوجود آخری قدم کیوں نہیں اٹھا ر ہے۔اس صورت میں، میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ دعائیں ہیں جو کام کرتی ہیں اور دعاؤں کے ذریعے حیرت انگیز تبدیلیاں ہوتی ہیں۔ایسے ایسے عظیم نشان ظاہر ہوتے ہیں کہ انسان کی عقلیں دنگ رہ جاتی ہیں کہ کیسے یہ واقع ہوا۔پس اس کے لیے با خدا بنا ضروری ہے۔منہ کی خشک دعائیں کبھی قبول نہیں ہوسکتیں جب تک دل کی سوزش کے ساتھ ان کا تعلق نہ ہو۔اس لیے دعاؤں میں سوز پیدا کریں، اپنے دل