سلسلہ احمدیہ — Page 715
715 روز مرہ آپ کی زندگی کا حصہ بن جائیں اور جب تک آپ یہ چیزیں کھا کر نہ زندہ رہیں اس وقت تک آپ یہ نہ سمجھیں کہ آپ ایک جدید مزاج کے ترقی یافتہ انسان ہیں۔غرضیکہ افریقہ کی ساری مارکیٹیں ایسی غذاؤں سے بھری پڑی ہیں جو باہر کے ملکوں میں پیدا ہوتی ہیں اور یہاں آکر فروخت ہو رہی ہیں۔جن کو مقامی طور پر کسی جگہ بھی تیار نہیں کیا جا رہا۔نہ اس کی استطاعت ہے، نہ اس کی صنعت موجود ہے۔یہ چیزیں کھانی اور استعمال کرنی گناہ تو نہیں ہیں۔غذائیں جو اللہ تعالیٰ نے پیدا کی ہیں مختلف طریق پر ان کو تیار کیا گیا ہے مگر اقتصادی خود کشی ضرور ہے ان قوموں کے لیے جو یہ چیزیں خود پیدا نہیں کر سکتیں۔چونکہ وہ لوگ جو ان چیزوں کو خود پیدا کرتے ہیں ان کے لیے اس بات کا کوئی خطرہ نہیں کہ ان کی دولت ہاتھوں سے نکل کر غیر ملکوں کی طرف بہنی شروع ہو جائے۔اپنے ملک کی دولت اپنے ملک میں رہتی ہے۔بلکہ ان چیزوں کو پیدا کرنے کے نتیجہ میں باہر سے بھی دولت کھینچنے کے مواقع میسر آجاتے ہیں۔لیکن جو غریب قومیں ان کو پیدا نہیں کرتیں ان کے لیے دوہرا نقصان ہے۔مذہبی طور پر حرام نہ ہونے کے باوجود قومی طور پر ان کا بے دھڑک استعمال اور حد سے زیادہ استعمال ان کے لیے ایک اقتصادی خود کشی کے مترادف ہو جاتا ہے۔ان کا دوہرا نقصان یہ ہے۔نمبر ایک وہ قومیں جو یہ چیزیں تیار کرتی ہیں بہت امیر ہیں اور ان کی روزمرہ کی آمد غریب قوموں کی آمد سے بعض دفعہ سو گنا زیادہ ، کہیں پچاس گنا زیادہ ، کہیں بیس گنا زائد ہے کیونکہ وہ خود یہ چیزیں تیار کرتی ہیں اس لیے اتنی بڑی آمد کے باوجود وہاں بہت سستی ملتی ہیں۔غریب ملکوں کا عجیب حال ہے ان کی آمدان سے اتنی کم ہے کہ پچاس آدمی مل کے جو کماتے ہیں وہ ایک آدمی وہاں کما رہا ہوتا ہے اس کے باوجود یہاں ان کی بنی ہوئی چیزیں کئی گنا زیادہ قیمت پر وہ خرید رہے ہوتے ہیں۔آپ نے فرمایا: میں ہر گز مغربی قوموں کا دشمن نہیں۔میں خدا کے کسی بھی بندہ کا دشمن نہیں بلکہ خدا کے بندوں سے دشمنی کو حرام سمجھتا ہوں۔البتہ میں خدا کے مظلوم بندوں سے محبت کرتا ہوں اور خدا کے غریب بندوں سے زیادہ پیار رکھتا ہوں۔اس لیے غیر قوموں کی دشمنی میں ہر گز نہیں، بلکہ آپ