سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 48 of 938

سلسلہ احمدیہ — Page 48

48 دیں گے۔بعد میں اس کی بات سنیں گے۔مقدمات کی تفصیل میں جائیں تو معلوم ہو گا کہ گنتی کے چند بد بخت مولوی ہیں جنہوں نے یہ شیطانی کام اپنے ذمہ لے رکھا ہے کہ احمدیوں پر مقدمات کئے جاویں۔ان میں نام نہاد مجلس ختم نبوت کے مولوی پیش پیش ہیں۔پنجاب میں مولوی اللہ یار ارشد اور خدا بخش وغیرہ ہیں۔سندھ میں ایک چھوٹے سے قصبہ ٹنڈو آدم کا رہنے والا ایک مولوی احمد میاں حمادی ہے جو وہاں کی جامع مسجد کا خطیب ہے اور چونکہ مسجد محکمہ اوقاف کے زیر نگرانی ہے اس لئے یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ مولوی حمادی گورنمنٹ کا تنخواہ یافتہ ہے۔اس بد بخت مولوی نے بھی احمدیت کی مخالفت کو اپنا پیشہ بنائے رکھا اور نہ صرف سندھ کی جماعت احمدیہ کے افراد پر بلکہ جماعت احمدیہ کے مرکز ربوہ سے نکلنے والے اخبارات و رسائل الفضل، خالد، مصباح ، تحریکب جدید، تشخیذ الا ذبان وغیرہ کے مدیران، پرنٹرز، مینجر ز اور پبلشر صاحبان پر کئی ایک مقدمات ٹنڈو آدم میں کئے تا کہ ان بزرگان کو دور دراز کا سفر طے کر کے مقدمہ کی پیشی کے لئے سندھ جانا پڑے۔مولویوں کے قائم کردہ ان مقدمات کے علاوہ بہت سے مقدمات ایسے ہیں جنہیں حکومت کے نمائندگان، ڈپٹی کمشنر یا اسسٹنٹ کمشنر صاحبان نے ہوم سیکرٹری کی ہدایت پر بعض احمدیوں کے خلاف قائم کیا۔جماعت کے خلاف مختلف مقدمات اور ایف آئی آر پر مشتمل ایک کتاب ایف آئی آر کے نام سے شائع کی جا چکی ہے۔تاریخی شواہد پر مشتمل یہ ایک نہایت اہم دستاویز ہے جس سے غیر احمدی ملاؤں کی کلمہ دشمنی، اسلام دشمنی، جھوٹ اور تکذیب و افتراء اور فتنہ انگیزی اور شرارت پر مشتمل کارروائیوں کا بخوبی اندازہ ہوتا ہے۔اسی طرح اس سے یہ بھی معلوم ہو سکتا ہے کہ کس طرح معصوم احمدیوں کو جھوٹے مقدمات میں ملوث کر کے کس قسم کی قلبی و ذہنی اور عملی اذیتیں دی گئیں۔لیکن انہوں نے راہ موٹی میں یہ سب ظلم وستم نہایت صبر وشکر اور اللہ تعالیٰ کی رضا پر راضی رہتے ہوئے برداشت کیا۔