سلسلہ احمدیہ — Page 642
642 نہ کرے۔اگر تو بہ نہیں کرنی تو اتنا ہی کرے۔یہ غالبا چند جمعے پہلے اعلان کیا تھا کہ ایسا کرلے تو میں سمجھتا ہوں کہ یہ مباہلے کی زد سے بچ جائے گا کیونکہ عملاً یہ اپنا سر خدا کے حضور خم کر دے گا کہ میری تو بہ ، میں اب ان باتوں میں مصر نہیں ہوں، ضد نہیں کرتا۔اب تاریخیں تو مجھے یاد نہیں رہیں مگر یہ مجھے علم ہے قطعی طور پر کہ ضیاء کی ہلاکت سے کچھ عرصہ پہلے میں نے یہ اعلان اسی مسجد سے کیا تھا ، جمعہ میں کیا تھا۔لیکن اس کے بعد اس نے اپنے حالات نہیں بدلے بلکہ شرارت میں بڑھتا چلا گیا۔اس پر پھر وہ رات آئی جس میں مجھے خدا نے وہ چکی چلتی ہوئی بتائی اور میں نے پھر صبح دوسرے دن جمعہ تھا اس میں اعلان کیا کہ اب خدا تعالیٰ کی طرف سے مجھے یہ اطلاع ملی ہے، یہ خبر مل گئی ہے آخری فیصلہ کن کہ اب اس کے دن پورے ہو چکے ہیں۔اب خدا کے عذاب کی چکی سے یہ شخص بچ نہیں سکتا۔اور اگلے جمعہ سے پہلے پہلے اس طرح یہ بلاک ہوا ہے کہ ہمیشہ کے لئے عبرت کا نشان بن گیا ہے۔پہلا فرعون تو ایسا تھا جس کی لاش عبرت کے لئے محفوظ کر دی گئی تھی۔یہ اس دور کا فرعون ایسا ہے جس کی خاک بھی نہیں بچی۔صرف مصنوعی دانتوں سے وہ پہچانا جاتا ہے اور وہی عبرت کا نشان بن گئے ہیں ہمیشہ کے لئے۔تو ان مولویوں کی پھر بھی آنکھیں نہیں کھلیں۔اور یہ عجیب بات ہے، یہ ساری باتیں اکٹھی ہو گئی ہیں اس لئے میں سمجھتا ہوں کہ یہ سال ایک بہت غیر معمولی سال ہے، پچھلا سال بھی اس لحاظ سے غیر معمولی تھا کہ پچھلے سال بھی رمضان سے پہلے میں نے جماعت کو تحریک کی تھی کہ دعا کریں اللہ تعالی مولوی کی ذلتوں کے اب سامان شروع کرے اور اللَّهُمَّ مَرْقُهُمْ كُلَّ مُحمدي وَسَيَقُهُم تسحیقا کی دعا خصوصیت سے یاد رکھیں۔اور اس رمضان میں یہ دعائیں بطور خاص توجہ اور الحاج سے کریں اور اس کے بعد وہ واقعات رونما ہوئے جن کے بعد مولوی کے سارے منصوبے 66 دھرے رہ گئے۔“ حضور نے فرمایا: "۔۔۔اب کی جو دعائیں ہیں اس میں یہ یاد رکھیں کہ ایک لیکھرام کو برباد کیا مگر یہ عقل والے لوگ نہیں ہیں۔ایک فرعون تباہ ہوا لیکن پھر بھی انہوں نے عبرت نہ پکڑی۔تو اے خدا اب ان سب فرامین