سلسلہ احمدیہ — Page 636
636 FRIDAY THE 10TH رمضان کے ساتھ جڑا ہوا اُبھرا ہے۔اور اس پہلو سے مجھے اس رمضان کے غیر معمولی طور پر مبارک ہونے کے لحاظ سے کوئی بھی شک نہیں۔مگر ایک مزید تائیدی بات یہ ظاہر ہوئی کہ مجھے ربوہ سے ناظر صاحب اصلاح وارشاد نے لکھا کہ یہ مولوی لوگ ان سب باتوں کے متعلق جن کے متعلق آپ مباہلے میں حلفیہ انکار کر چکے ہیں کہ جماعت پر یہ جھوٹے الزامات ہیں پھر دوبارہ شور ڈالنا شروع کر چکے ہیں۔اور جانتے بوجھتے کہ جماعت کی طرف سے اس پر لَعْنَةُ الله عَلَى الْكَاذبين“ کی دعا بار بار دہرائی گئی ہے پھر بھی کوئی حیا نہیں کر رہے۔اور اب ایک وزیر کے بہانے جو احمدی ہے مہم شروع کی ہے۔اس میں ان اعتراضات کا، سب کا نہیں تو بہتوں کا اعادہ کیا گیا ہے جن کے متعلق جماعت احمدیہ کی طرف سے آپ نے اعلان کیا تھا، مباہلے کا چیلنج دیا تھا اور اس مباہلے کی صداقت کا نشان بن کر ضیاء الحق کو خدا تعالیٰ نے ایسا نیست و نابود کیا کہ اس کے وجود کا کوئی ذرہ بھی ان کے ہاتھ نہ آیا، صرف ایک ڈنچر (Denture) تھا جو مصنوعی تھا۔یعنی جو اس مرنے والے کی پہچان تھی وہ مصنوعی دانت تھے اس کے سوا اس کے جسم کا کوئی حصہ، اس کا نشان تک نہیں ملا۔وہاں کی خاک اکٹھی کر کے ایک جگہ بھر دی گئی اور اس خاک میں اس یہودی ایمبسیڈر کی خاک بھی شامل تھی اس لئے کوئی نہیں جانتا کہ وہ کس کس کی خاک کا پتلا بنایا گیا ہے جسے ضیاء کہا جاتا ہے اب۔اور جو نشان ہے وہ صرف مصنوعی دانت ہیں اس کے متعلق ذرہ بھی کسی کو شک نہیں۔پس یہ نشان خدا نے بڑی شان سے ظاہر فرمایا۔اور یہ ظالم لوگ باز ہی نہیں آ رہے۔اسی طرح مسلسل بے حیائیوں میں آگے بڑھتے چلے جارہے ہیں۔وہی ظالمانہ تحریکات جو پہلے اٹھتی رہیں۔جن کارڈ کیا گیا، جن کے مؤثر ، مدلل جوابات دیئے گئے۔۔۔حضور نے فرمایا: اس قوم سے دیا اٹھ گئی ہے یہاں تک کہ وہ دعوے پھر کرتے چلے جاتے ہیں کہ تمام دنیا کے علماء ان کو مرتد اور کافر، دائرہ اسلام سے باہر سمجھتے ہیں اور یہ تسلیم نہیں کرتے۔حضور نے اس پر تبصرہ کرتے ہوئے فرمایا: