سلسلہ احمدیہ — Page 42
42 جب قرآن کریم جلائے احمدیوں کے پکڑ کر ، حالانکہ وہی قرآن تھا جو محمد مصطفی ع کا قرآن تھا تو قرآن کی اشاعت میں بے شمار برکت ہوئی۔جب انہوں نے تبلیغ پر پابندیاں لگا ئیں تو تبلیغ میں برکت ہوئی۔تو آپ دیکھ لیں کہ جب 1974ء میں یہ فیصلہ ہوا کہ یہ غیر مسلم ہے تو اس سے پہلے۔علماء اس بات کو کھول چکے تھے کہ واقعہ یہ ہے کہ لوگ بھولے پن میں دھوکے میں آکر احمدی ہور ہے ہیں۔جب تک ان پر مسلمان کا لیبل لگا ہوا ہے وہ ہوتے رہیں گے۔جب مسلمان کا لیبل ہٹا دیں گے تو پھر دیکھنا کہ کس طرح لوگ رُک جاتے ہیں، کسی کو جرات نہیں ہوگی کسی کو ہمت نہیں ہوگی کہ غیر مسلم کا بورڈ آگے لگا ہوا ہو اور پھر حد کراس کر کے پار اتر کر وہ غیر مسلموں میں شامل ہو جائیں۔لیکن ان کی ہر تدبیر کا خدا نے ہمیشہ الٹ نتیجہ نکالا اور 74ء کے بعد اتنی تیز رفتاری پیدا ہوگئی تبلیغ میں کہ ان کی عقلیں گم ہو گئیں۔سمجھ نہیں آتی تھی کہ یہ جو کیا رہا ہے۔جتنی بڑی دیوار بناتے ہیں اتنی بڑی بڑی چھلانگیں لگا کر لوگ پارا تر نے شروع ہو جاتے ہیں۔جتنا کر یہہ المنظر بورڈ آویزاں کرتے ہیں اتنا ہی ذوق اور شوق اور محبت کے ساتھ لوگ ان کی طرف دوڑے چلے جا رہے ہیں۔یہی واقعہ تھا۔یہ گواہی ہے آج جو کچھ ہو رہا ہے اس حق میں کہ جو میں کہہ رہا ہوں وہ سو فیصدی درست بات ہے۔ان کو مجھے آگئی کہ ہماری ہر تد بیر الٹ ہو گئی ہے۔ہر تد بیر نا کام ہو گئی ہے۔اس لئے اب آگے بڑھو اور اور روکیں کھڑی کرو لیکن یہ نہیں جانتے کہ ہمارا خدا ہر روک کو توڑنا جانتا ہے۔جتنی روکیں تم کھڑی کرو گے اتنی زیادہ تیز رفتاری کے ساتھ اور لوگ احمدیت میں داخل ہوں گے اور یہی ہو کر رہے گا۔۔“ اسی طرح آپ نے فرمایا: (خطبات طاہر جلد 3 صفحہ 258-259) عبادت کو روکنے کی انہوں نے کوشش کی ہے۔تمام دنیا میں ہر احمدی اپنی عبادت کے معیار کو بلند کردے۔یعنی اپنے عجز کو، عجز کے معیار کو ایسا بلند کرے کہ خدا کے حضور اور زیادہ جھک جائے ، اس کی روح سجدہ ریز رہے خدا کے حضور اور وہ اپنی زندگی کو عبادت میں ملا جلا دے ایسے گویا کہ اس کی زندگی عبادت بن گئی ہو۔عبادت والوں کو خدا کبھی ضائع نہیں کیا کرتا اور عبادت سے روکنے والوں کو کبھی خدا نے پہنچنے نہیں دیا۔وہ کہتے ہیں کہ ہم عبادت سے روکیں