سلسلہ احمدیہ — Page 483
483 ملک سے کوئی اثر ورسوخ نہیں ہے اور ہم دہلی سے درخواست تو کر رہے ہیں اور اسی طرح جالندھر والوں سے درخواست کر رہے ہیں لیکن ہمیں یہ توقع نہیں کہ ہم سے بھر پور تعاون ہو گا اس لیے ایک آدھ خبر میں بھی اگر ذکر آجائے تو ہم ممنون ہوں گے۔یہ تمہید باندھ کر انہوں نے یہ درخواست کی کہ میں اجازت دی جائے کہ ہم لکھو کھا روپیہ خرچ کر کے بعض ٹیلی ویژنز اور بعض ریڈیو اسٹیشنز کو اس بات پر آمادہ کریں کہ اشتہار کے طور پر ہماراذکر کر دیں۔میں نے ان سے کہا کہ ایک پیسہ بھی اشتہار پر خرچ نہیں کرنا۔یا تو جماعت کا رسوخ ہو اور اس رسوخ کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ کے فضل سے یہ بعض ممالک کے متعلقہ شعبے تعاون کریں یا پھر دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے ایسے سامان پیدا کر دے۔اشتہار بازی کے پراپیگنڈے کا میں قائل نہیں ہوں۔چنانچہ ایک پیسے کی بھی میں نے ان کو اشتہار بازی کی اجازت نہیں دی۔لیکن جو واقعہ گزرا ہے وہ حیرت انگیز ہے۔ہندوستان کے کونے کونے سے یہی خبریں مل رہی ہیں کہ ٹیلی ویژن والے خود پہنچے اور اتنی تشہیر کی اور بار بار حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی پوری تصویر دکھائی گئی اور ایسے اچھے انداز میں ذکر ہوا ہے کہ بعض لوگ کہتے ہیں کہ ہماری جماعت جب یہ نظارے دیکھتی تھی تو زار زار خوشی سے روتی تھی کہ کہاں ہم اور کہاں ہماری کوششیں اور کہاں یہ اللہ تعالی کے فضل۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی تصویر کو ٹیلی ویژن پر دیکھتے تھے تو دل بلیوں اچھلتے تھے اور بے اختیار ہو جاتے تھے۔بچے ، بڑے، مرد، عورتیں سارے خوشی سے زور زور سے روتے تھے۔کہتے ہیں ایسا نظارہ ہم نے دیکھا ہے کہ ساری زندگی میں وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ اتنی عظیم روحانی مسرتیں ہمیں نصیب ہوں گی۔اور پھر ایک جگہ یہ واقعہ ہوا اس ٹیلیویژن نے دوسرے ٹیلی ویژن کو یہ اپنی فلمیں بھجوائیں۔انہوں نے ان کو دکھایا۔پھر انہوں نے سنٹر میں بھجوائیں انڈیا کے دہلی میں اور دہلی سنٹرل ٹیلی ویژن یا نیشنل ٹیلی ویژن نے پھر ان نظاروں کو دکھایا اور سارے ملک میں اس کا چرچا ہوا اور یہاں تک کہ بمبئی میں جہاں کی جماعت کی تعداد بہت ہی مختصر، بہت ہی چھوٹی ہے اور بہت بڑا شہر ہے۔ایک عظیم الشان شہر ہے۔بمبئی کے بعض حصے تو یورپ کے سب سے زیادہ ترقی یافتہ شہروں کا مقابلہ کرتے ہیں اور بعض حصے اتنے