سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 482 of 938

سلسلہ احمدیہ — Page 482

482 ایک ماہ بعد 21 اپریل 1989 ء کو مسجد فضل لندن میں خطبہ جمعہ میں فرمایا : اللہ تعالیٰ کے فضل کے ساتھ صد سالہ جشن تشکر کی جور پورٹیں دنیا کے مختلف ممالک سے موصول ہورہی ہیں ان سے معلوم ہوتا ہے کہ جماعت کی بہترین توقعات سے بہت بڑھ کر اللہ تعالی نے جماعتی تقریبات کو اپنے فضل سے نوازا اور برکتیں عطا فرمائیں۔اگر چہ یہ رپورٹیں ابھی دنیا کے تقریباً ایک بٹ دس (1/10) ممالک سے ملی ہیں یعنی ایک اندازہ ہے، کم و بیش و سواں حصہ رپورٹوں کا موصول ہوا ہے اور باقی رپورٹیں کچھ بن گئی ہوں گی، کچھ رستے میں ہوں گی۔لیکن تمام رپورٹوں میں بلا استثناء اس حیرت کا اظہار کیا گیا ہے کہ ہمارے وہم وگمان میں بھی نہیں تھا کہ اللہ تعالی کے فضل سے ان تقریبات کو اتنی مقبولیت عطا ہوگی اور اس کثرت کے ساتھ جماعت احمدیہ کا پیغام تمام ملک ملک کے کونے کونے میں پہنچ جائے گا۔ایک تعجب کی بات یہ ہے کہ جن جن ممالک میں ریڈیو موجود تھے یعنی ریڈیو کا نظام موجود تھا وہاں ہماری کوششوں کے بغیر ایک دم ریڈیو والوں نے رابطے پیدا کئے اور جہاں جماعتیں سمجھتی تھیں کہ ہماری آواز اس ملک کے اس حصہ میں نہیں پہنچ سکتی کیونکہ اس سے پہلے ان کا رویہ نہ صرف غیر دوستانہ تھا بلکہ بعض جگہ معاندانہ بھی تھا۔تو ان کی رپورٹوں سے پتہ چلتا ہے کہ ہم حیران رہ گئے کہ وہ ریڈیو جو پہلے معاندانہ پراپیگنڈے میں خاص طور پر آگے اور نمایاں تھے انہوں نے اچانک اپنا رویہ تبدیل کیا اور خود ہم تک پہنچ کر وہ پیغام لیا جو صد سالہ جو ہلی کا میں نے اپنی آواز میں بھروایا تھا اور جماعت احمدیہ کے متعلق دوسری معلومات لے کر انہیں کثرت کے ساتھ نشر کرنا شروع کیا۔اور جہاں ٹیلی ویژن تھی وہاں خلاف توقع ٹیلی ویژن والوں نے کثرت کے ساتھ جماعت کے پروگرام نشر کئے اور پھر ایک ملک کے حصے سے دوسرے ملک کے حصے کے ٹیلی ویژنوں نے ان کو پکڑا اور پھر اس کو آگے پہنچایا اور تمام ملک کے کونے کونے میں خدا تعالی کے فضل سے جہاں جہاں ٹیلی ویڑنز موجود تھے وہاں ٹیلی ویژنز کے ذریعے جماعت کا پیغام پہنچا۔ہندوستان کے متعلق خود قادیان کے پہلے اندازے یہ تھے کہ اتنا بڑا ملک ہے اور تقسیم کے بعد کیونکہ تناسب کے لحاظ سے جماعت کی تعداد بہت تھوڑی رہ گئی ہے اس لیے ہمارا اس