سلسلہ احمدیہ — Page 449
449 جماعت احمدیہ عالمگیر کے صد سالہ جشن تشکر کے موقع پر اقوام عالم میں امن والحاد پیدا کرنے کے لئے سیدنا حضرت خلیفتہ اسیح الرابع رحمہ اللہ کا نہایت بصیرت افروز پیغام "بسم الله الرحمن الرحیم نحمدہ و نصلی علی رسوله الكريم و على عبده المسيح الموعود خدا کے فضل اور رحم کے ساتھ هُوَ النَّاصِرُ مُلک ہند میں مشرقی پنجاب کے ایک چھوٹے سے قصبہ میں آج سے ایک سو سال پہلے ایک عجیب ماجرا گزرا، جسے آئندہ بنی نوع انسان کے لئے ایک عظیم عہد آفریں واقعہ بنا تھا۔وہاں ایک ایسا مذہبی راہنما مبعوث ہوا جس نے خدا کے اذن سے دور آخر میں ظاہر ہونے والے آسمانی مصلح ہونے کا دعوی کیا۔یوں تو دنیا میں ایسے سینکڑوں دعویدار پیدا ہوئے اور آئندہ بھی پیدا ہوتے رہیں گے لیکن اس کے دعوی میں ایک ایسی بات تھی جو سب سے الگ اور سب سے عجیب تھی۔اس نے ایک ایسا دعویٰ کیا جس نے ایک نئے انداز میں اقوام عالم کے اتحاد کی بنا ڈالی اور توحید باری تعالیٰ کی ایک ایسی تفسیر کی جس نے دور آخر میں ظاہر ہونے والے متفرق مصلحین کے پراگندہ تصور کو وحدت کا جامہ پہنایا۔وہ انقلاب آفریں اعلان کیا تھا جس نے اس دور کی مذہبی دنیا میں ایک ہیجان برپا کر دیا اور جس کا ارتعاش زمین کے کناروں تک محسوس کیا گیا۔یہ وہ دور تھا جسے ہم بالعموم دور انتظار کہہ سکتے ہیں۔تمام دنیا کے بڑے بڑے مذاہب کے پیروکار، کیا یہودی اور کیا عیسائی، کیا مسلمان اور کیا ہندو، کیا بدھ اور کیا زرتشتی اور کیا کنفیوشس کے مانے والے۔سبھی اپنے اپنے مذہب کی راہ پر آخری زمانہ کے موعود مصلح کی آمد کا انتظار کر رہے تھے۔یہود کو بھی ایک مسیح کی انتظار تھی جس نے دور آخر میں ظاہر ہونا تھا۔اور عیسائیوں کو بھی ایک مسیح کی آمد کا انتظار تھا۔مسلمان بھی ایک موعود مسیح کی آمد کے منتظر تھے اور ایک