سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 448 of 938

سلسلہ احمدیہ — Page 448

448 جو دیکھا ہے اس کی روشنی میں ہم یقین کے طور پر کہہ سکتے ہیں کہ مستقبل اتنا روشن ہے اور اتنا عظیم الشان ہے کہ جس طرح آج سے سو سال پہلے کوئی تصور بھی نہیں کر سکتا تھا کہ دنیا کے ایک سونہیں ممالک میں جماعت احمد یہ پھیل چکی ہوگی اور کوئی یہ تصور بھی نہیں کر سکتا تھا کہ اس سے پہلے تیرہ سو سال میں ساری دنیا کے مسلمانوں نے جتنی زبانوں میں قرآن کریم کے تراجم کئے ہیں اس سے دوگنی زبانوں میں، چند سال میں جماعت احمدیہ کو توفیق ملی کہ تراجم کر کے ساری دنیا میں اس مقدس صحیفے کے ترجمے کو پھیلا دے۔۔۔۔۔€6 پس میں ربوہ کے رہنے والے ہوں یا پنجاب کے دوسرے علاقوں کے لوگ جو اس حکم کوسن کر غمزدہ ہیں ان کو میں دوبارہ یقین دلاتا ہوں کہ آپ کی خوشیاں ان کی پہنچ سے بالا ہیں۔آپ خوش رہیں اور خدا تعالی مزید آپ کی خوشیاں بڑھاتا چلا جائے گا۔یہ کیوں نہیں سوچتے آپ کہ کس قدر ان کے دل مغضوب ہو چکے ہیں۔کس قدر ان کی تکلیف کے نئے نئے سامان خدا تعالیٰ نے پیدا کر دیتے ہیں۔یعنی وہ شخص جو کسی کی خوشی پر عذاب میں مبتلا ہو اس سے زیادہ اور کیا جہنم سوچی جاسکتی ہے۔بڑے ہی سادہ لوح ہیں وہ لوگ جو سمجھتے ہیں کہ انہوں نے حکم دے کر ہماری خوشیاں چھین لی ہیں۔ان کا حکم دینا بتا تا ہے کہ ان کے دلوں میں آگ لگی ہوتی ہے۔اس جہنم میں جل رہے ہیں کہ احمدیوں کو کیوں خدا تعالٰی نئی نئی رفعتیں، نئی نئی برکتیں عطا کرتا چلا جارہا ہے۔حیرت ہوتی ہے کہ کس قدر بیوقوف اور جاہل قوم ہے یہ کہ جو اس طرح دوسرے کی خوشیاں چھینے کی کوشش کر رہی ہے اور یہ رذیل کوشش بتا رہی ہے کہ دلوں میں ایک آگ لگی ہوئی ہے، جہنم برپا ہے۔بہت انہوں نے کوشش کی، بہت زور مارے کہ احمدیت کو نا کام اور نامراد کر دیں۔آج سو سال کے بعد اپنی آنکھوں کے سامنے دیکھ رہے ہیں کہ کوئی پیش نہیں گئی، کوئی سختی کام نہ آئی، کسی قسم کے رزیل ارادوں نے احمدیت کو نا کام تو کیا کرنا تھا احمدیت کے پاؤں کی خاک کو بھی وہ ناکام و نامراد نہیں کر سکے۔یہ وہ کیفیت ہے جو اس حکم سے ظاہر ہے۔ایک شکست کا اعتراف ہے کہ ہم سب کچھ کر بیٹھے ہیں، ہم نامراد ہو گئے ہیں، اب خدا کے لئے خوش نہ ہو کیونکہ تمہاری خوشیاں ہمیں تکلیف دیں گی۔“ ( خطبہ جمعہ فرمودہ 24 مارچ 1989ء بمقام اسلام آباد، للفورڈ۔خطبات طاہر جلد 8 صفحہ 194-196)