سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 446 of 938

سلسلہ احمدیہ — Page 446

446 ایکٹ XLV آف 1860ء ایسی کافی وجو ہات موجود ہیں کہ اس کی (یعنی صد سالہ تقریبات کی فوری روک تھام کی جائے اور ایسی ہدایات کا اجراء ضروری ہے جو انسانی زندگی، املاک اور امن و سکون حامہ کو درپیش خطرہ کا انسداد کریں۔اس لئے اب میں چوہدری محمد سلیم ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ جھنگ دفعہ 144 PPC 1998 ج کے تحت اپنے اختیارات کو بروئے کار لاتے ہوئے قادیانیوں کوضلع جھنگ میں مندرجہ ذیل سرگرمیوں سے باز رکھنے کے لئے حکم صادر کرتا ہوں۔عمارات اور ان کے احاطوں میں چراغاں کرنا۔( یعنی اپنے گھروں کے اندر بھی نہیں چراغاں کر سکتے ، سجاوٹی گیٹ لگانا، جلسے اور جلوس کا انعقاد، لاؤڈ سپیکر یا میگا فون کا استعمال، نعرے لگانا، بیجز آویزاں کرنا، رنگ برنگے تھے اور بینرز لگانا، پمفلٹ تقسیم کرنا، پوسٹر لگانا، دیواروں پر لکھنا، مٹھائی یا کھانا یا تقسیم کرنا اور کوئی ایسی حرکت جو بالواسطہ یا بلاواسطہ مسلمانوں کے مذہبی جذبات انگیخت یا مجروح کرنے کا موجب ہو۔۔۔۔۔۔۔میرے ہاتھ اور عدالت کی مہر سے آج مورخہ 21 مارچ 1989ء کو جاری کیا گیا۔چوہدری محمد سلیم ڈپٹی کمشنر حه فرموده 24 مارچ 1989ء بمقام اسلام آباد فلفورڈ۔خطبات طاہر جلد 8 صفحہ 199-197) مامانو از خطبه جمع فرموده 24 حضرت خلیفہ اسیح الرابع رحمہ اللہ کو جب اس ظالمانہ حکم نامے کی اطلاع ہوئی تو حضور رحمہ اللہ نے پاکستان کے احمدیوں کو پیغام دیا کہ جو کچھ بھی ہو آپ نے اپنے حوصلہ کا سر بلند رکھنا ہے اور قطعا ان لوگوں سے مرعوب نہیں ہونا۔اس کا ذکر کرتے ہوئے آپ رحمہ اللہ نے اپنے خطبہ جمعہ فرمودہ 24 / مارچ 1989ء میں فرمایا: ایک سو سال کے خدا تعالی کے بے انتہا احسانات ہیں جو جماعت پر نازل ہوئے ہیں۔اس کے نتیجے میں جو خوشیاں دلوں سے پھوٹ رہی ہیں ان کو دنیا کی کوئی طاقت دبا نہیں سکتی۔اس لئے آج میرا آپ کو پیغام یہ ہے کہ آپ نے لازماً خوش رہنا ہے۔جو کچھ سر پر گزرے آپ نے اپنی خوشی کو مغلوب نہیں ہونے دیتا۔۔۔۔۔۔جب میں ربوہ سے روانہ ہو رہا تھا تو میں نے آپ سے ایک وحدہ لیا تھا اور وہ وعدہ یہ تھا کہ آپ اس غم کو مرنے نہیں دیں گے اور ہمیشہ اس غم کو تازہ رکھیں گے۔اس وعدے کو آج آپ بھول جائیں، آج میں آپ سے ایک نیا