سلسلہ احمدیہ — Page 434
434 کرے۔کہتا ہے کہ اس نے یہ دعوی کیا تھا کہ وہ بازیاب ہوئے تو میں پھانسی پر چڑھ جاؤں گا لیکن وہ اس وعدے پر پورا نہ اترے اسی لئے زیر بحث معاملہ میں بھی ان کے دعوی کو تسلیم کرنا مشکل ہے۔یہ زیر بحث معاملہ کیا تھا ؟ سنیے! وہ کہتے ہیں قادیانی جماعت کے سر براہ مرزا طاہر احمد نے ایک من گھڑت خبر کو بنیاد بنا کر اپنے خطبہ جمعہ میں تقریر کرتے ہوئے 15 ستمبر 1989ء سے قبل میرے قتل کی پیشگوئی کی ہے اور میں تحریک استحقاق پیش کرتا ہوں۔تو وہ ہے تو جھوٹا ہی آپ جانتے ہیں۔یعنی خدا نے اسمبلی کے ممبروں سے اس کا جھوٹ ہونا ثابت کروایا حالانکہ ان کو علم نہیں تھا کہ یہ جھوٹا ہے۔لیکن کیسا عمدہ استدلال کیا اس نے کہ یہ شخص اتنا جھوٹا ہے کہ کہتا تھا اسلم قریشی کو مرزا طاہر احمد نے قتل کروادیا اور اگروہ زندہ ثابت ہو جائے ، نکل آئے دوبارہ ، تو بر سر عام میں پھانسی چڑھ جاؤں گا۔پھر ابھی تک زندہ ہے سامنے بیٹھا ہوا ہے۔اتنا جھوٹا شخص۔اس کا اعتبار کیا جاسکتا ہے؟ تو لعنت اللہ عَلَی الْكَاذِبِينَ (آل عمران 62) تو پڑ گئی۔پھر ان کے متعلق ایک مولوی صاحب نے بیان دیا علامہ سید زبیر شاہ صاحب بخاری 29 را پریل 1989ء کو مساوات میں یہ اعلان شائع ہوا ان کی طرف سے کہ منظور چنیوٹی عملا اسمبلی کی رکنیت کھو چکے ہیں اب وہ صرف چنیوٹ کے کھال فروش قصاب کے سوا کچھ نہیں ہیں۔جو اپنی عزتوں کے اتنے دعوے کیا کرتا تھا کہ میں سارے پاکستان کا مولوی ہوں اور درباروں تک میری رسائی ہے، اس کے ساتھ یہ سلوک ہو رہا ہے۔پھر جو کہتا تھا کہ میں حملہ کرواؤں گا خود اس کو تسلیم ہے کہ میں نے نہیں کروایا مگر خدا کی تقدیر نے حملہ ضرور کروا دیا اس پر۔اور روز نامہ جنگ لاہور 22 نومبر 1988ء کی خبر ہے۔منظور چنیوٹی پر قاتلانہ حملہ بیٹا اور بھتیجا زخمی۔مولانا کے اظہار دعوت ارشاد پر مخالفین کی فائرنگ اور پتھراؤ۔چنیوٹی کے لڑکے ثناء اللہ اور بھیجے امیر حمزہ کو قاضی صفدر علی کے حامیوں نے کافی مارا پیٹا۔کوئی اشتباہ بھی کسی کے ذہن میں پیدا ہوا، نہ مقدمہ میرے خلاف درج کروانے کی اس کو تو فیق علی اور واقعہ جو اس کے منہ سے بات نکلی تھی وہ خدا نے اس طرح پوری کی کہ اس کو جھوٹا کرتے ہوئے پوری کی۔اس کو سچا کرتے ہوئے نہیں کہ قتل کا ارادہ تو ہوا، قتل کی کوشش بھی کی گئی لیکن میں نے نہیں کروائی۔خدا نے و ہیں بعض لوگوں سے کوشش کروائی۔جنگ لندن 22 دسمبر کو یہ خبر شائع ہوئی ایک اسمبلی کی روئداد کے متعلق ایک صاحب نے یہ