سلسلہ احمدیہ — Page 306
306 ثابت شده تاریخی شہادتوں اور غیر قوموں کی قدیم تحریروں سے ان غلط اور خطر ناک خیالات کو ڈور کروں جو مسلمانوں اور عیسائیوں کے اکثر فرقوں میں حضرت مسیح علیہ السلام کی پہلی اور آخری زندگی کی نسبت پھیلے ہوئے ہیں۔“ اور فرماتے ہیں: سوئیں اس کتاب میں یہ ثابت کروں گا کہ حضرت مسیح علیہ السلام مصلوب نہیں ہوئے اور نہ آسمان پر گئے اور نہ کبھی امید رکھنی چاہئے کہ وہ پھر زمین پر آسمان سے نازل ہوں گے بلکہ وہ ایک سو بیس برس کی عمر پا کر سرینگر کشمیر میں فوت ہو گئے اور سرینگر محلہ خانیار میں ان کی قبر ہے۔۔مسیح ہندوستان میں۔روحانی خزائن جلد 15 صفحہ 14) گو حضور کا ارادہ دس باب اور ایک خاتمہ لکھنے کا تھا مگر بعد میں صرف مندرجہ ذیل چار ابواب پر ہی اکتفا کی۔باب اول: مسیح کے صلیبی موت سے بچنے پر انجیلی دلائل باب دوم : ان شہادتوں کے بیان میں جو حضرت مسیح کے صلیبی موت سے بچ جانے کی نسبت قرآن وحدیث سے ملتی ہیں۔باب سوم: ان شہادتوں کے بیان میں جو طب کی کتابوں سے لی گئی ہیں جن سے ثابت ہوتا ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام صلیب سے زندہ اتر آئے اور ان کے زخموں کے علاج کے لئے ان کے حواریوں نے یہ مرہم تیار کی جس کا نام مرہم عیسی“ ہے۔باب چهارم اُن شہادتوں کے بیان میں جو تاریخی کتب سے لی گئی ہیں جن میں حضرت مسیح علیہ السلام کے واقعہ صلیب کے بعد اپنے ملک سے ان کے نصیبین ، افغانستان اور ہندوستان کی طرف ہجرت کرنے کا ذکر آتا ہے۔اپنی تصنیف تریاق القلوب میں حضرت اقدس اس کتاب کے متعلق فرماتے ہیں: "جو شخص میری کتاب مسیح ہندوستان میں اول سے آخر تک پڑھے گا گو وہ مسلمان جو یا عیسائی یا یہودی یا آریہ ممکن نہیں کہ اس کتاب کے پڑھنے کے بعد اس بات کا وہ قائل نہ ہو