سلسلہ احمدیہ — Page 129
129 میں بھڑ کی ہوئی تھی۔پس وہ شخص جس نے جماعت کی مسجد کو آگ لگانے کی دھمکی دی تھی اس کا گھر بھی جل گیا اور وہ مصنوعی، دنیا کی خاطر بنائی ہوئی مسجد بھی جل گئی۔تو اللہ تعالیٰ کے نشانات ہر جگہ احمدیت کی تائید میں ظاہر ہوتے ہیں۔“ (مخطبہ جمعہ فرمودہ 7 اپریل 1995ء، خطبات طاہر جلد 14 صفحہ 236233) مساجد کی تخمیر اور مساجد کی وسعت کے ایک نئے دور کے آغاز کی تحریک حضرت خلیفۃ اسیح الرابع رحمہ اللہ نے اپنے خطبہ جمعہ فرمودہ 24 / فروری 1995ء میں ساری جماعت کو بالعموم مساجد کی تعمیر اور توسیع کی تحریک کرتے ہوئے فرمایا: مساجد کی تعمیر اور مساجد کی وسعت کا ایک نیا دور شروع ہونا چاہئے۔توسیع مساجد ایک ایسا کام ہے جو جماعت کی توسیع سے گہرا تعلق رکھتا ہے۔جب بھی ہم نے توسیع مساجد کی مہم چلائی ہے اور مشنوں کی، وہ بھی مساجد ہی ہیں ہمارے لئے، تو اللہ نے بے شمار فضل فرماتے ہیں اور جماعت کے دعوت الی اللہ کے کاموں میں بہت برکت پڑی ہے۔تو اس لئے یہ ایک عام تحریک ہے گل عالم کی جماعتوں کے لئے کہ مساجد تعمیر کرنے اور مساجد میں توسیع کرنے کی مہم شروع کریں۔جتنی توفیق ہے اس طرح کریں۔دنیا داری کے جھگڑوں میں پڑ کر ظاہری خوبصورتی اور قیمتی سامانوں کی فراہمی کا انتظار نہ کریں۔جیسی بھی مسجد ہے اسے اللہ کا ذکر برکت بخشتا ہے، وہ مومن برکت بخشتے ہیں جو تقویٰ لے کر وہاں سے سجائے پہنچتے ہیں۔مسجد کی سجاوٹ تو ان متقیوں سے ہے۔پس اس پہلو سے جہاں تک ممکن ہے خوبصورت دیدہ زیب مسجد بنانا اللہ تعالٰی کی صفت جمال کے منافی تو نہیں۔مگر اس انتظار میں کہ اتنا پیسہ ہو تو پھر ایسی مساجد بنائی جائیں، مساجد کی بنیادی ضرورت کو نظر انداز کر دیا تو یہ جائز نہیں ہے۔یہ پھر دنیا داری ہے، یہ عبادت کی محبت نہیں ہے۔پس حسب توفیقی وسعتیں دیں۔خوبصورت نہیں بنتی تو سادہ مگر اس وقت ستھری اچھی چیز دکھائی دے اور جتنی توفیق ہے اس کے مطابق یہ کام شروع کریں۔( خطبہ جمعہ فرمودہ 24 فروری 1995ء ، خطبات ظاہر چار 14 صفحہ 137-138) حضور کی تحریک توسیع مساجد کے تحت بھی سینکڑوں مساجد کی از سر نو تعمیر ہوئی اور اضافے کئے گئے۔اور امریکہ اور کینیڈا کے علاوہ بر اعظم ایشیا، یورپ اور افریقہ میں بیسیوں نئی مساجد تعمیر ہوئیں اور