سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 695 of 766

سلسلہ احمدیہ — Page 695

695 ہوئے۔سکینڈے نیوین ممالک میں سب سے پہلے ڈنمارک میں لجنہ اماءاللہ کا قیام عمل میں آیا یہاں پر لجنہ کا پہلا اجلاس ۱۹۶۸ء میں منعقد ہوا جس میں سات لجنات نے شرکت کی۔۱۹۷۰ء میں پہلی مرتبہ یہاں پر صدر لجنہ کا انتخاب عمل میں آیا اور ڈینش خاتون مکرمہ محترمہ عائشہ صاحبہ نے صدر لجنہ ڈنمارک کے فرائض سنبھالے۔خلافت ثالثہ کے دوران مکرم کمال یوسف صاحب ، مکرم میر مسعود احمد صاحب ،مکرم سید جواد علی شاہ صاحب اور مکرم منصور احمد مبشر صاحب نے بطور مبلغ ڈنمارک میں خدمات سرانجام دیں۔ناروے خلافت ثالثہ کے دوران بھی اللہ تعالیٰ کے فضل سے مکرم سید کمال یوسف صاحب کو بطور مبلغ نمایاں خدمات کی توفیق ملی۔اور مقامی احمدی مکرم نور احمد بوستاد صاحب مبلغین کے شانہ بشانہ نمایاں خدمات سرانجام دیتے رہے۔آپ ناروے میں آنریری مبلغ کے طور پر کام کرتے رہے۔جب مکرم سید کمال یوسف صاحب کچھ سالوں کے لئے ڈنمارک چلے گئے تو آپ سیکریٹری ناروے مشن کے طور پر خدمات سرانجام دیتے رہے۔آپ سکولوں میں جا کر اسلام کے متعلق لیکچر بھی دیتے رہے۔یہاں پر خدام الاحمدیہ کا آغاز ۱۹۷۴ء میں ہوا اور تنویر احمد ڈار صاحب پہلے قائد مقرر ہوئے۔ناروے میں لجنہ اماءاللہ کا قیام مارچ ۱۹۷۵ء میں عمل میں آیا اور پہلی صدر مکر مہ قانتہ مبشر صاحبہ نامزد ہوئیں۔ملکی مجلس انصاراللہ کا قیام ۱۹۸۱ء میں ہوا اور مکرم سید محمود احمد شاہ صاحب اس کے پہلے زعیمِ اعلیٰ مقرر ہوئے۔اسی طرح یہاں پر اطفال الاحمدیہ کا قیام ۱۹۸۱ء میں ہوا۔ناروے میں پہلی مجلس شوری ۱۹۸۲ء میں ہوئی اور اس کے بعد اس اہم جماعتی روایت کا سلسلہ با قاعدگی سے جاری رہا۔جرمنی خلافت ثالثہ کے دوران مندرجہ ذیل مبلغین کو جرمنی میں بطور خدمات کی توفیق ملی۔مکرم فضل الہی انوری صاحب ۱۹۶۴ ء تا ۱۹۶۷ء ، بشیر احمد شمس صاحب ۱۹۶۶ ء تا ۱۹۶۹ء، قاضی نعیم الدین صاحب ۱۹۶۹ء تا ۱۹۷۴ء مکرم فضل الہی انوری صاحب دوبارہ ۱۹۷۲ ء تا ۱۹۷۷ء، مکرم منصور احمد عمر صاحب ۱۹۷۴ء تا ۱۹۷۵ء، مکرم حیدر علی ظفر صاحب ۱۹۷۴ء تا ۱۹۷۸ء، مکرم مشتاق احمد باجوہ