سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 628 of 766

سلسلہ احمدیہ — Page 628

628 مستقبل بھی بنا سکتے ہیں اور وہاں پر قرآن کی اشاعت کر کے وہاں کے لوگوں کے لئے ہدایت کا سامان بھی بن سکتے ہیں۔(۱) جرمنی کے بعد حضرت خلیفہ المسیح الثالث سوئٹزر لینڈ تشریف لے گئے۔یہاں پر حضور نے اس ملک میں تبلیغی مساعی کا جائزہ لے کر راہنمائی فرمائی اور مختلف احباب نے شرف ملاقات حاصل کیا۔یہاں پر حضور نے ایک پریس کانفرنس سے خطاب فرمایا اور مقامی جماعت اور زیورک کے میئر نے حضور کے اعزاز میں استقبالیہ دیا۔چار روز کے بعد حضور سوئٹزر لینڈ سے واپس جرمنی تشریف لے آئے۔اور اس مرحلہ پر ہیمبرگ بھی تشریف لے گئے۔پھر اس کے بعد دورہ ڈنمارک کا آغاز ہوا۔حضور نے یہاں پر ایک استقبالیہ کی تقریب میں شرکت فرمائی اور اس موقع پر مجلس سوال و جواب بھی منعقد ہوئی۔۲۴ جولائی ۱۹۸۰ ء کو حضور نے احباب جماعت سے خطاب فرمایا۔حضور نے خطاب کے آغاز میں ایک احمدی کا مقام بیان کیا اور فرمایا کہ ان سب باتوں کو پیش نظر رکھے بغیر اور ان پر غور کئے بغیر ایک احمدی کو اپنی ذمہ داریاں ادا کرنے کی توفیق نہیں مل سکتی۔حضور نے ڈنمارک کے احمدی احباب کو ایک اہم بات کی طرف توجہ دلاتے ہوئے فرمایا کہ یورپین قوموں کے افراد خدا تعالیٰ کی ناراضگی کی آگ کی طرف بھاگے جا رہے ہیں اور آپ ہیں کہ آرام سے بیٹھے ہیں اور انہیں بچانے کی فکر نہیں کرتے۔یہاں آکر چند ہزار کرونے (ڈنمارک کی کرنسی ) کمانا تو کوئی کام نہیں۔اصل کام تو ان لوگوں کو خدا تعالیٰ کی ناراضگی کی آگ سے بچانا ہے۔خدا تعالیٰ کے فضل تو بارش کی طرح برس رہے ہیں اور ہمیں بیدار کر رہے ہیں کہ ہم آگے بڑھیں اور ان لوگوں کو اس آگ سے بچائیں جو ان کے چاروں طرف بھڑک رہی ہے لیکن آپ کے دلوں کی حالت اور عمل کی کیفیت ایسی نہیں جس سے آپ کے پوری طرح بیدار ہونے کا ثبوت مل سکے۔ہمارے جو لوگ دوسرے ملکوں میں رہتے ہیں میرے نزدیک ان کی حالت کسی نہ کسی حد تک قابل اصلاح ہے۔ان پر ماحول کا اثر ہورہا ہے گو انہیں اس کا پریہ نہیں۔ڈنمارک کے بعد حضور کے دورہ سویڈن کا آغاز ہوا۔اس دورہ کے دوران حضور کا قیام گوٹن برگ میں تھا۔حضور نے سویڈن میں اپنے سہ روزہ قیام کے دوران ایک استقبالیہ میں شرکت فرمائی ، جس میں مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والے افراد نے شرکت کی۔احباب جماعت سے ملاقات کے علاوہ