سلسلہ احمدیہ — Page 629
629 مختلف اخباری نمائندگان سے بھی ملاقات فرمائی۔وہاں کے مشہور اخبار Arbetet کے نمائندگان نے انٹرویو کے دوران بعض مسلمان ممالک میں رونما ہونے والے واقعات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے وہاں کے بعض لیڈروں کے پُر تشد د نظریات کا ذکر کیا۔اور دریافت کیا کہ ان کا طرز عمل کہاں تک اسلام کے مطابق ہے۔حضور نے فرمایا تمام مذہبی لیڈروں کا میرے دل میں احترام ہے لیکن خود اسلامی تعلیم کی رو سے تشدد خواہ کسی شکل میں ہو، میں اس کے خلاف ہوں۔امن کسی صورت میں برباد نہیں ہونا چاہئے۔ہمیشہ قائم رہنے والی کامیابی پر امن طریقوں سے ہی حاصل ہوتی ہے اس لئے اسلام نے اس کو برقرار رکھنے اور اس میں کوئی رخنہ نہ ڈالنے پر بہت زور دیا ہے۔میں تو تشدد کا جواب تشدد سے نہ دینے کا قائل ہوں۔کیونکہ اگر ہر حالت میں تشدد کا جواب تشدد سے دینے کو ضروری اور لازمی سمجھا جائے تو تشدد کا چکر کبھی ختم نہیں ہوگا۔یہی وجہ ہے کہ جب آج سے چند سال قبل احمد یوں کے خلاف تشدد ہوا تو میں نے احمدیوں کو صبر سے کام لینے کی تلقین کی اور انہیں جواباً کسی قسم کا تشدد اختیار نہیں کرنے دیا۔اوسلو(ناروے) میں مشن ہاؤس اور مسجد کا افتتاح اس دورہ کے دوران ایک اور اہم واقعہ اوسلو (ناروے) میں مشن ہاؤس اور مسجد کا افتتاح بھی تھا۔حضرت خلیفہ اسیح الثالث نے یہ افتتاح یکم اگست ۱۹۸۰ء کو فرمایا۔اس روز پہلے ایک طویل پریس کا نفرنس منعقد ہوئی۔پھر نماز جمعہ کے ذریعہ افتتاح عمل میں آیا۔حضور نے خطبہ جمعہ میں ارشاد فرمایا کہ مسجد اللہ تعالیٰ کا گھر ہے۔اور یہ ان تمام لوگوں کے لئے کھلی ہے جو داخل ہو کر خدائے واحد کی عبادت کرنا چاہیں۔یہ جماعت احمدیہ کی ناروے میں پہلی اورسکینڈے نیویا میں تیسری مسجد تھی۔اس مسجد کا نام حضرت خلیفہ اسی الاول کے نام پر مسجد نور رکھا گیا۔حضور نے ناروے کے عہدیداروں کو ہدایات دیں کہ وہ ست خدام کو چست بنا ئیں۔اور جماعت کے مالی نظام کے متعلق بھی ہدایات سے نوازا۔اور ارشاد فرمایا کہ میرا ارادہ ہے کہ بیرونی مشنوں اور جماعتوں میں باقاعدہ آڈٹ کا نظام رائج کیا جائے۔پہلے وہ یہاں آکر ڈبل انٹری سسٹم متعارف کرائیں اور پھر وہ وقفہ وقفہ سے یورپ کے تمام مشنوں کا آؤٹ کر کے حساب تیار کریں۔