سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 586 of 766

سلسلہ احمدیہ — Page 586

586 جامعہ احمدیہ سے تعلیم مکمل کر کے یوگینڈا پہنچے تو انہوں نے پوشیدہ طور پر مختلف مقامات پر احمدی احباب سے روابط شروع کئے۔ان کی آمد کے کچھ ماہ ہی بعد عیدی امین کو اقتدار سے رخصت ہونا پڑا ، وقت کے ساتھ عیدی امین صاحب کی ذہنی حالت عجیب رخ اختیار کر رہی تھی۔اپنے ملک میں تو انہوں نے قتل و غارت اور مظالم کا بازار گرم کیا ہوا تھا لیکن وہ اپنے آپ کو خود بہت سے خطابات سے نوازتے چلے جارہے تھے۔انہوں نے اپنے آپ کو یوگینڈا کا تاحیات صدر مقرر کرنے کے علاوہ اپنے آپ کو فیلڈ مارشل بھی مقرر کیا۔پھر گھر بیٹھے خود کو Conquerer of the British Empire یعنی فاتح سلطنت برطانیہ سے نوازا۔اس کے علاوہ انہوں نے اپنے ملک کی یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کی اعزازی ڈگری حاصل کی اور اپنے آپ کو ڈاکٹر بھی کہلوانے لگے۔پھر انہوں نے خود کوشاہ سکاٹ لینڈ کا خطاب بھی عطا کیا۔ملک میں مظالم کی یہ حالت ہوگئی کہ خود ان کے وزراء بھی ملک سے بھاگ کر دوسرے ممالک میں پناہ لینے لگے۔جب لندن میں حضرت عیسیٰ علیہ اسلام کی صلیب سے نجات پر کا نفرنس ہوئی تو اس میں بمشکل تمام یوگینڈا کے تین احمدی احباب بھی پہنچنے میں کامیاب ہو گئے۔ان دنوں یوگینڈا اسے باہر جانے کے لئے اجازت لینی پڑتی تھی اور فارن ایکسچینج کا مسئلہ اس کے علاوہ تھا۔جب ان احباب کی حضرت خلیفہ اسیح الثالث سے ملاقات ہوئی تو حضور نے فرمایا کہ عیدی امین کے لئے مشکلات کا آغاز ہو رہا ہے۔جبکہ دوسری طرف یہ یوگینڈین احمدی یوگینڈا سے رخصت ہوئے تھے تو اس وقت تک عیدی امین کی حکومت کے ختم ہونے کے کچھ امکانات نہیں تھے۔لیکن جلد ہی حالات نے ایک اور رخ اختیار کر لیا۔۱۹۷۹ء میں جب ان کے نائب صدر ایک حادثہ میں زخمی ہو گئے تو نائب صدر کی حامی افواج نے بغاوت کر دی۔عیدی امین نے تنزانیہ پر الزام لگایا کہ اس نے یوگینڈا پر حملہ کیا ہے اور اس کے خلاف اعلانِ جنگ کر دیا۔جنگ شروع ہوئی تو ان کی افواج پسپا ہوتی گئیں اور بالآخر انہیں ملک سے فرار ہونا پڑا۔معزول ہونے کے بعد وہ سعودی عرب میں رہنے لگے اور وہاں کی حکومت ان کے اخراجات کی کفالت کرنے لگی۔ان کے معزول ہونے کے معاً بعد جماعت کو اپنی ضبط شدہ مساجد مشن ہاؤس اور سکول واپس مل گئے۔ان تفصیلات کا بیش قیمت حصہ مکرم سلیمان مو آنجے صاحب ، مکرم محمد علی کا ٹرے صاحب ، مکرم