سلسلہ احمدیہ — Page 561
561 ۱۹۷۷ء کو رہا کر دیا گیا۔ابتداء میں ضیاء صاحب نے بھٹو صاحب کے مخالف کوئی خاص جذبات ظاہر نہیں کئے بلکہ ان کے متعلق کچھ تعریفی کلمات بھی کہے۔اگست کے شروع میں جب بھٹو صاحب لاہور گئے تو لوگوں کے عظیم ہجوم نے ان کا استقبال کیا۔لوگوں کی اتنی بڑی تعداد انہیں ایئر پورٹ پر الوداع کہنے آئی تھی کہ عملاً ایئر پورٹ پر ان کی پارٹی کے کارکنوں کا قبضہ ہو گیا تھا۔یہ سب کچھ ظاہر کر رہا تھا کہ اب تک ان کی مقبولیت بڑی حد تک قائم ہے۔جلد ہی کچھ ایسے آثار ظاہر ہونے لگے کہ ضیاء حکومت کے کچھ اور ارادے بھی ہیں۔بھٹو صاحب نے فیڈرل سیکیورٹی فورس کے نام سے ایک تنظیم قائم کی تھی۔ان کے مخالفین کا کہنا تھا کہ یہ ان کی ذاتی پولیس کے طور پر کام کرتی تھی۔اس تنظیم کے سر براہ مسعود محمود کو گرفتار کر لیا گیا۔۵ ستمبر ۱۹۷۷ء کو بھٹو صاحب کو دوبارہ گرفتار کر لیا گیا۔اس بار گرفتار کرنے والوں کے تیور بگڑے ہوئے تھے۔گرفتار کرنے والوں نے ان پرشین گنیں تانی ہوئی تھیں۔فوج کے کمانڈوان کی بیٹیوں کے کمروں میں داخل ہو گئے۔ملازموں کو مارا پیٹا گیا۔پورے گھر کوالٹ پلٹ دیا گیا۔۱۳ ستمبر کو انہیں جسٹس صمدانی کے سامنے پیش کیا گیا۔ان پر احمد رضا قصوری کے والد نواب محمد احمد کے قتل کا الزام تھا۔آج بھٹو صاحب اسی حج کے سامنے پیش ہو رہے تھے ، جس حج کو کچھ سال قبل انہوں نے ربوہ ٹیشن کے واقعہ کی تحقیق کے لئے مقرر کیا تھا۔جسٹس صمدانی نے بھٹو صاحب کی درخواست ضمانت منظور کر لی مگر انہیں کچھ روز کے بعد ایک بار پھر مارشل لاء قواعد کے تحت گرفتار کر لیا گیا۔مارشل لاء حکام کے مطابق بھٹو صاحب پر قتل کے الزام کی بنیاد ی تھی کہ جب ۵/ جولائی ۱۹۷۷ء کو ، یعنی جس روز مارشل لاء لگایا گیا تو فیڈرل سکیورٹی فورس کے ڈائریکٹر جنرل مسعود محمود صاحب کو بھی گرفتار کر لیا گیا۔جب فوج نے انہیں گرفتار کر کے اپنی تحویل میں رکھا تو پھر ” ضمیر کے بوجھ “ سے مجبور ہو کر ۱۴ اگست ۱۹۷۷ء کو انہوں نے چیف مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر جنرل ضیاء صاحب کو خط لکھا جس میں انہوں نے اعتراف کیا کہ اس وقت کے وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو صاحب نے انہیں ہدایت دی تھی کہ احمد رضا قصوری صاحب کو قتل کرایا جائے۔اور پھر ان کی ہدایت پر فیڈرل سیکیورٹی فورس کے کارندوں سے لاہور میں احمد رضا قصوری صاحب پر قاتلانہ حملہ کرایا گیا ، جس میں ان کے والد نواب محمد احمد قتل ہو گئے مگر احمد رضا قصوری صاحب بچ گئے۔پھر مسعود محمود صاحب نے اسلام آباد کے ایک