سلسلہ احمدیہ — Page 562
562 مجسٹریٹ کے رو برو بھی یہ بیان دیا۔پھرے استمبر ۱۹۷۷ء کو مسعود محمود نے وعدہ معاف گواہ بننے کی درخواست بھی دے دی۔(۱۱) ۱۱ / اکتوبر ۱۹۷۷ء کو لاہور ہائی کورٹ میں بھٹو صاحب کا مقدمہ شروع ہوا۔لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس مولوی مشتاق صاحب اس بینچ کی صدارت کر رہے تھے اور ان کے علاوہ چار اور حج بھی اس بینچ میں تھے جن میں سے ایک جسٹس آفتاب بھی تھے۔جسٹس آفتاب جماعت اسلامی سے روابط رکھتے تھے۔جن جج صاحب نے بھٹو صاحب کی ضمانت کی درخواست منظور کی تھی انہیں اس بینچ میں شامل نہیں کیا گیا تھا۔بھٹو صاحب پر فرد جرم لگائی گئی اور انہوں نے Plead کیا کہ وہ not guilty ہیں۔اس پر کارروائی شروع ہوئی۔پہلے احمد رضا قصوری صاحب نے کئی دن گواہی دی کہ ان کے بھٹو صاحب سے اختلافات کیسے شروع ہوئے اور کس طرح بھٹو صاحب نے ان کو قومی اسمبلی میں دھمکی دی۔انہوں نے کہا کہ وہ اپنے والد کے قتل کے بعد پیپلز پارٹی میں دوبارہ شامل ہو گئے اور ان کو تعریفی خطوط بھی لکھتے رہے کیونکہ وہ اپنی جان بچانا چاہتے تھے۔پھر مسعود محمودصاحب نے نو دن میں اپنی گواہی مکمل کی۔انہوں نے دعوی کیا کہ بھٹو صاحب نے انہیں مجبور کیا تھا کہ وہ ڈائر یکٹر انٹیلی جنس فیڈرل سیکیورٹی فورس کو حکم دیں کہ وہ اپنے کارندوں کے ذریعہ احمد رضا قصوری صاحب کو قتل کرائیں۔اس کے بعد فیڈرل سیکیورٹی فورس کے دیگر کارندوں کے بیانات قلمبند کئے گئے۔بھٹو صاحب کے وکیل کو شکایت تھی کہ جج صاحبان کی تمام پابندیاں ان کے لئے اور ان کے مددگار وکلاء کے لئے ہیں۔بھٹو صاحب اس دوران بیمار ہو گئے انہیں ملیر یا اور انفلوائنزا ہو گیا تھا۔تین دن کے توقف کے بعد ان کے بغیر ہی کا رروائی جاری رہی۔دوبارہ کا رروائی شروع ہوئی تو ایک مرحلہ پر بھٹو صاحب اور حج صاحبان میں تلخ کلامی ہو گئی۔بھٹو صاحب نے اس دوران کہا کہ وہ جج صاحبان کا توہین آمیز رویہ کافی برداشت کر چکے ہیں۔چیف جسٹس مولوی مشتاق صاحب نے پولیس کو کہا کہ اس شخص کو لے جاؤ جب تک اس کے ہوش و حواس بجا نہ ہو جائیں۔۱۸ دسمبر کو بھٹو صاحب نے درخواست دی کہ ان کے مقدمہ کو کسی اور بینچ کی طرف منتقل کیا جائے۔لیکن یہ درخواست مسترد کر دی گئی۔اب تلخی اتنی بڑھ گئی تھی کہ بھٹو صاحب کے وکیل اعوان صاحب نے عدالت کو مخاطب کر کے کہا کہ ان کے موکل نے ان کا وکالت نامہ منسوخ کر دیا ہے اور اپنے آپ کو عدالت کی کارروائی سے