سلسلہ احمدیہ — Page 542
542 مامور پر ایمان لانے والوں پر کفر کا فتویٰ بھی لگایا۔یہ وہ دور تھا جب پاکستان میں ایک سال قبل ہی نیا آئین نافذ ہوا تھا اور جمہوریت کی بحالی اور نئے سیاسی نظام سے بہت سی امیدیں وابستہ کی جا رہی تھیں۔اور جماعت کا وفد اس سپیشل کمیٹی میں سوالات کے جوابات دے رہا تھا تو انہی دنوں میں بڑی امیدوں کے ساتھ قومی اسمبلی کی نئی عمارت کی بنیا د رکھی گئی تھی۔لیکن اس کے بعد کیا ہوا ؟ جیسا کہ ہم بعد میں ذکر کریں گے کہ نئے انتخابات ہوئے اور دھاندلی کے الزامات کی وجہ سے فسادات شروع ہو گئے اور پھر ملک پر ایک طویل مارشل لاء مسلط کر دیا گیا۔اور اس دوران آئین معطل رہا۔پھر آئین بحال ہونے کا وقت آیا تو ایک کے بعد دوسری اسمبلی ٹوٹتی رہی اور اس ادارہ کا وہ حشر ہوا کہ صاحبزادہ فاروق صاحب جو کہ اس کارروائی کے دوران قومی اسمبلی کے سپیکر تھے انہوں نے یہ بیان دیا کہ موجودہ پارلیمنٹ ہاؤس کی عمارت کا سنگ بنیا درکھوا نا میری زندگی کی سب سے بڑی غلطی تھی اور یہ میرا ایک ناقابل معافی جرم تھا۔انہوں نے کہا کہ اگر انہیں اندازہ ہوتا کہ اس اسمبلی کی حیثیت صفر ہو جائے گی اور عوام کی رائے خود اس اسمبلی میں بیٹھنے والوں کے ذریعہ ختم کر دی جائے گی تو وہ اس غلطی کا ارتکاب کبھی نہ کرتے۔یہ تھا اس ادارے کا انجام جس نے احمدیوں پر کفر کا فتو ی لگایا تھا۔(۲۵) یہ فیصلہ دنیا کی تاریخ میں ایک انوکھا فیصلہ تھا کہ ایک ملک کی سیاسی اسمبلی نے یہ فیصلہ کیا تھا کہ کسی فرقہ کا مذہب کیا ہونا چاہئے۔اس وقت بھی پاکستان میں مذہبی انتہا پسندی کی ایک تاریخ تھی جس سے بھٹو صاحب بخوبی واقف تھے۔اور بھٹو صاحب خود بھی برملا اس بات کا اظہار کر چکے تھے کہ ان واقعات کے پیچھے بیرونی ہاتھ ملوث ہے۔ظاہر ہے کہ جب کسی بیرونی ہاتھ کی خواہش کے مطابق ایسے اقدامات کئے جائیں تو اس سے ملک کو نقصان ہی پہنچ سکتا ہے۔جب ہم نے ڈاکٹر مبشر حسن صاحب سے یہ سوال کیا کہ اگر ایسا تھا کہ یہ سب کچھ کوئی بیرونی ہاتھ کر رہا تھا۔اور یہ ساری سازش پاکستان کی سا لمیت اور وحدت کے لئے خطرہ تھی پھر کیوں ان کے مطالبات تسلیم کر لئے گئے اور وہ بھی متفقہ طور پر۔کیا اس سے بیرونی ہاتھ کے شروع کئے گئے کام کو تقویت نہیں ملی۔اس کے جواب میں ڈاکٹر مبشر حسن صاحب نے کہا وو ” Actually he always thought (اصل میں ان کا ہمیشہ خیال ہوتا تھا)