سلسلہ احمدیہ — Page 538
538 جائیں گے اور تلخیاں دور کر دی جائیں گی۔‘ (۲۲) جہاں تک عالمی منظر پر رونما ہونے والی تبدیلیوں کے متعلق اس پیشگوئی کا تعلق ہے تو اس ضمن میں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ حضرت خلیفہ اسیح الثالث نے ۱۹۷۲ کی مجلس شوری سے خطاب کرتے ہوئے بھی یہ تجزیہ بیان فرمایا تھا کہ اشتراکیت ناکام ہو چکی ہے۔انہوں نے انسانیت کی خدمت کی آواز تو بلند کی لیکن وہ ابھی تک ایسا کوئی نظام روس میں قائم نہیں کر سکے جس میں انہوں نے روس کے مفادات قربان کر کے دنیا کے ممالک کی بھلائی کی کوشش کی گئی ہو۔وہ دوسرے ممالک کو Dictate کرنا چاہتے ہیں کہ جو ہم کہتے ہیں تم وہ مانو۔اور خود روس کے مشرقی اور مغربی حصے کی ترقی میں بہت فرق ہے۔حضور نے اپنا مشاہدہ بیان فرمایا کہ جب حضور ۱۹۶۷ء میں یورپ کے دورہ پر جاتے ہوئے کچھ دیر کے لئے ماسکو کے ایئر پورٹ پر رکے تو یہ دیکھا کہ وہاں ایک مردنی اور پژمردگی چھائی ہوئی ہے، غذائی قلت کے آثار صاف نظر آرہے تھے۔کوئی بشاشت نہیں تھی کوئی مسکراہٹ نہیں تھی۔انہوں نے اپنے ملک میں جو کام کیا وہ تو کیا لیکن وہ جو نہیں کر سکے وہ یہ ہے کہ وہ اپنے لوگوں میں بشاشت نہیں پیدا کر سکے۔اس کے ساتھ ہی حضور نے ارشاد فرمایا کہ چین ایک بڑی قوت بن کر ابھر رہا ہے۔اور چینیوں نے جو نظام اپنے لئے منتخب کیا ہے اس میں وہ زیادہ سمجھداری اور عقلمندی سے آگے بڑھ رہے ہیں۔(۲۳)۔آئندہ چند دہائیوں میں دنیا کی آنکھ نے مشاہدہ کیا کہ یہ پیشگوئی حرف بحرف پوری ہوئی۔جیسا کہ حضور نے فرمایا تھا کمیونزم کی نا کامیاں سب کے سامنے آگئیں اور سوویت یونین بکھر کر رہ گیا اور مشرقی یورپ سے بھی کمیونزم کا نظام ختم ہو گیا۔اور اس کے برعکس چین کے نظام نے بر وقت اپنے اندر کچھ تبدیلیاں پیدا کر لیں اور چین ایک بڑی صنعتی قوت کے طور پر سامنے آیا۔اس کے بعد بہت سے خطبات میں حضرت خلیفہ اسیح الثالث نے جماعت کی راہنمائی فرمائی کہ پاکستان کے آئین میں اس ترمیم پر جماعت احمدیہ کا ردعمل کیا ہونا چاہئے اور ان کا کچھ ذکر ۱۹۷۵ء کے دور کے ذکر میں آئے گا۔لیکن جب ہم ان تمام خطبات اور تقاریر کو پڑھتے ہیں تو یہی معلوم ہوتا ہے کہ جماعت احمدیہ کے ردعمل کا حتمی اعلان حضرت خلیفہ مسیح الثالث نے ۱۹۷۵ء کے جلسہ سالانہ کے افتتاحی خطاب کے دوران کیا تھا۔جب یہ جلسہ شروع ہوا اور حضرت خلیفہ اسیح الثالث سٹیج پر تشریف لے آئے تو حسب سابق مشہور احمدی شاعر مکرم ثاقب زیروی صاحب اپنی نظم