سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 535 of 766

سلسلہ احمدیہ — Page 535

535 میں قومی اتحاد کی بنیاد پڑی ہے اور ان کے صدر نے کہا کہ امید ہے کہ اب اکثر قادیانی مسلمانوں کی تبلیغ کے نتیجہ میں اسلام قبول کرلیں گے۔(۱۷) یہ تھے اس وقت مختلف لوگوں کے خیالات لیکن پھر کیا ہوا۔کیا اس فیصلہ کے بعد قومی اتحاد قائم ہوا؟ ہرگز نہیں بلکہ پاکستان کا معاشرہ ہر پہلو سے اس بری طرح تقسیم ہوا کہ جس کا پہلے تصور بھی نہیں کیا جا سکتا تھا۔کیا ملک میں اسلامی معاشرہ قائم ہوا؟ کوئی بھی یہ دعویٰ نہیں کر سکتا بلکہ قتل و غارت اور دہشتگردی کا وہ طوفان امڈا کہ خدا کی پناہ۔اور کیا یہ علماء جواب بھٹو صاحب کی تعریف میں زمین آسمان ایک کر رہے تھے ، ان کے وفادار رہے؟ نہیں یہ مولوی طبقہ کبھی کسی کے ساتھ وفا نہیں کرتا۔جلد ہی انہوں نے بھٹو صاحب کے خلاف ایک مہم چلائی اور ان کے خلاف، ان کے اہلِ خانہ کے خلاف ان کے آباء کے خلاف ملک بھر میں وہ گندہ دہنی کا طوفان اُٹھایا کہ شاید ہی کوئی گالی ہو جو نہ دی گئی ہو۔۷ ستمبر کو بھٹو صاحب اپنے آپ کو بہت مضبوط محسوس کر رہے تھے۔لیکن کیا اس نے انہیں کوئی فائدہ دیا؟ جلد ہی ان کے خلاف ایک ملک گیر تحریک چلی اور پھر ان کی حکومت کا تختہ الٹ دیا گیا۔ان پر احمد رضا قصوری صاحب پر قاتلانہ حملہ کرانے اور ان کے والد کے قتل کا مقدمہ چلایا گیا اور انہیں پھانسی کی سزا دی گئی۔اگر یہ فیصلہ خدا کی نظر میں مقبول تھا تو اس کے کچھ آثار بھی تو نظر آنے چاہیئے تھے۔ہمیں اس کے بعد کی تاریخ میں ایسے کوئی آثار نظر نہیں آتے۔کیا اس فیصلہ سے جماعت احمدیہ کی ترقی رک گئی؟ بالکل نہیں جماعت احمد یہ پہلے سے بہت زیادہ تیز رفتاری سے ترقی کرتی چلی گئی۔جو نقصان ہوا ملک کا اور اس فیصلے کو کرنے والوں کا ہوا۔بہت سے تجزیہ نگاروں نے اس فیصلہ کا تجزیہ کیا ہے اور آئندہ بھی کرتے رہیں گے۔ان میں سے کچھ مثالیں پیش ہیں۔موسیٰ خان جلال زئی اپنی کتاب The Sunni-Shia Conflict in Pakistan میں لکھتے ہیں۔صورتِ حال اس وقت تبدیل ہوگئی جب پنجاب حکومت نے ۱۹۵۱ء میں مرکزی حکومت کے خلاف مذہبی پتے کھیلنے کا فیصلہ کیا۔مؤخر الذکر ثابت قدم رہی اور احمدیوں کے خلاف فسادات کو روکنے کے لیے فوج کو طلب کر لیا گیا۔دو دہائیوں کے بعد بھٹو صاحب نے احمدیوں کی مخالفت کا پتہ کھیلنے کا فیصلہ کیا۔شاید یہ اس لیے کیا گیا کہ پاکستان اسلامی