سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 502 of 766

سلسلہ احمدیہ — Page 502

502 A Book of Readings on the History of the Punjab 1799-1947 by Imran Ali Malik, Published by Research Society of the Punjab 1985 p321 جہاں تک مسلمانوں کے علیحدہ رد عمل کا تعلق ہے تو اس کتاب میں اس کے متعلق پہلی خبر درج ہے۔جب پہلی جنگ عظیم کا آغاز ہوا تو لاہور میں مسلمانوں کا ایک جلسہ منعقد ہوا اور منتظمین کی طرف سے اس جلسہ کی غرض یہ بیان کی گئی کہ ملکہ معظم جارج پنجم دام اقبالہ کے حضور میں مسلمانان لا ہور و پنجاب کی طرف سے اظہارِ وفاداری و عقیدت کیا جائے اور پروردگار عالم کی درگاہ میں سرکار انگلشیہ کی فتح و نصرت کے واسطے دعا کی جائے۔نیز مسلمانانِ پنجاب کی طرف سے گورنمنٹ کو یقین دلایا جاوے کہ مسلمانوں کا ہر فرد و بشر سر کارِ عالیہ کی ہر قسم کی امداد و خدمت کے واسطے تیار ہے۔“ اس میں ایک قرارداد پیش کی گئی۔اس قرارداد میں کہا گیا تھا کہ : مسلمانان لاہور کا یہ عام جلسہ جو بسر پرستی انجمن اسلامیہ پنجاب لا ہور منعقد کیا گیا ہے۔مسلمانانِ پنجاب کی طرف سے اپنی گورنمنٹ اور حضور شہنشاہ معظم کی خدمت میں ایک غیر متزلزل مکمل وفادار ہے۔اور عقیدت شعاری کا اظہار کرتا ہے۔اور سلطنت کی حفاظت میں اپنی خدمت اور تمام ذرائع پیش کرتا ہے۔“ اور اس قرارداد کی حمایت میں بہت سے معززین نے تقاریر کیں جن میں سے ایک نام ڈاکٹر اقبال صاحب بار ایٹ لاء کا بھی تھا۔اس کے بعد مولوی غلام اللہ صاحب کی طرف سے دوسرا ریزولیشن یہ پیش کیا گیا کہ ہم سب مسلمانوں پر یہ فرض ہے کہ سرکار کی فتح و نصرت کے لئے دعائیں مانگیں۔چنانچہ یہ قرارداد بھی منظور کی گئی کہ تمام مساجد میں سرکار کی فتح ونصرت کے لئے دعائیں مانگی جائیں۔اس کے علاوہ بہت سے علماء نے بھی اس موقع پر مختلف جلسوں سے خطاب کئے۔مذکورہ کتاب میں اس کی مثالیں درج ہیں۔ایک مولوی صاحب ، مولوی نظر حسین صاحب نے گوجرانوالہ میں جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سلطنت برطانیہ نے محض حقوق اور انصاف کی طرف داری کے لئے اس جنگ میں حصہ لیا ہے۔چونکہ ہر مسلمان پر انصاف کی حمایت فرض ہے اس لیے ہم کو اپنے