سلسلہ احمدیہ — Page 34
34 ہم قرآنِ کریم سے غافل نہ ہوں۔ہم اسے ہر وقت اپنے سامنے رکھنے والے ہوں۔اپنی زندگی میں اسے مشعلِ راہ بنانے والے ہوں۔اگر ایسا ہو تو پھر قرآن کریم کی برکتیں ہمیں حاصل ہوں گی۔اگر ہم ایک چشمہ پر بیٹھے ہوں لیکن اس چشمہ کی طرف ہماری پیٹھ ہو اور ہمارا منہ ریگستان کی طرف ہو تو ہم اس چشمہ سے کوئی فائدہ نہیں اُٹھا سکتے۔(۴) اسی خطبہ میں حضور نے بعض مثالیں بیان کر کے فرمایا کہ بہت سی جماعتوں میں سستی پیدا ہوئی ہے لیکن وہ مردہ نہیں ہیں۔ان کے حالات کچھ ایسے ہیں کہ ان کے اندر غفلت پیدا ہو گئی ہے۔حضور نے اس بات کی ضرورت محسوس فرمائی کہ اب جماعت میں قرآنِ کریم کی تعلیم اور تربیت کے لئے ایک نظام جاری کیا جائے۔چنانچہ آپ نے ۱۸ / مارچ ۱۹۶۶ء کے خطبہ جمعہ میں ایک نئی تحریک کا اعلان فرمایا۔اس سے قبل منگل کے روز حضور کے پیٹ میں کچھ تکلیف تھی۔اس رات حضور کو اسہال شروع ہو گئے جس کی وجہ سے نقاہت اور جسم میں درد کی شکایت پیدا ہوگئی۔جمعرات کو کافی افاقہ تھا۔چونکہ گزشتہ کچھ روز کا کام جمع ہو گیا تھا، اس کی وجہ سے آپ کی طبیعت میں پریشانی کا احساس تھا۔حضور رات کو ساڑھے بارہ بجے تک ڈاک ملاحظہ فرماتے رہے۔اور آپ نے جماعت کی ترقی اور احباب جماعت کے لئے بہت دعائیں کیں۔صبح جب آپ کی آنکھ کھلی تو آپ کی زبان پر پنجابی کا یہ فقرہ تھا اینا دیواں گا کہ تو رج جاویں گا“ یعنی میں تمہیں اتنا دوں گا کہ تم سیر ہو جاؤ گے۔حضور نے خطبہ جمعہ میں یہ الہام سنا کر فرمایا کہ ” خلیفہ وقت کی سیری تو اس وقت ہو سکتی ہے جب جماعت بھی سیر ہو۔اس لئے میں نے سمجھا کہ اس فقرہ میں جماعت کے لئے بھی بڑی بشارت پائی جاتی ہے۔سو میں نے یہ فقرہ دوستوں کو بھی سنا دیا ہے۔تاوہ اسے سن کر خوش بھی ہوں اور ان کے دل حمد سے بھی بھر جائیں۔اور انہیں یہ بھی احساس ہو جائے کہ انہیں اس رب سے جو ان سے اتنا پیار کرتا ہے کتنا پیار کرنا چاہئے۔(۵) اس کے بعد حضور نے تحریک فرمائی کہ احباب جماعت جن کو توفیق ملےسال میں دو ہفتہ سے چھ ہفتہ تک کا عرصہ دین کی خدمت کے لئے وقف کریں۔اس دوران انہیں جماعت کے کاموں کے لئے جس جس جگہ بھجوایا جائے وہاں وہ اپنے خرچ پر جائیں۔اور جو کام ان کے سپرد کیا جائے انہیں بجا