سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 418 of 766

سلسلہ احمدیہ — Page 418

418 پر سوال شروع ہی نہیں ہوئے تھے جس کے لیے اس کمیٹی کو قائم کیا گیا تھا۔پھر نورانی صاحب نے فرمایا: ”Explanation قرآن اور حدیث کی روشنی میں ہونی چاہئے۔یہ جملہ پڑھ کر تو احساس ہوتا ہے کہ شاید نورانی صاحب ابھی ابھی گہری نیند سے بیدار ہوئے تھے۔حقیقت یہ ہے کہ اب تک کمیٹی نے بیسیوں سوالات اور تبصرے لکھ کر اٹارنی جنرل صاحب کو دیئے تھے لیکن کسی ایک میں بھی کسی آیت کریمہ یا حدیث شریف کو دلیل کے طور پر پیش نہیں کیا گیا تھا۔البتہ جو جوابات حضور نے دیئے تھے اور جو جوابات اس کے بعد بھی دیئے گئے ان میں سے بہت سے جوابات میں قرآنی آیات اور احادیث کو بطور دلیل کے پیش کیا گیا تھا۔پھر ایک اور ممبر محمد حنیف خان صاحب نے یہ گلہ کیا ”وہ question کرنا شروع کر دیتا ہے۔سب اپنے گلے شکوے کر رہے تھے لیکن سب سے عجیب پوزیشن اٹارنی جنرل صاحب کی تھی۔بیشتر سوالات تو مولوی حضرات لکھ کر دیتے تھے لیکن انہیں اٹارنی جنرل صاحب کو پڑھنا ہوتا تھا۔اور اگر سوال لا یعنی ہو یا حوالہ ہی غلط ہو تو خفت بھی انہیں اٹھانی پڑتی تھی۔اور معلوم ہوتا ہے کہ وہ اب اس صورت حال سے عاجز آ رہے تھے۔چنانچہ اس مرحلہ پر اٹارنی جنرل صاحب نے کہا : "Sir, if I may respectfully submit, explanations are different, you may or may not accept, but I would request the honourable members not to supply me loose balls۔" وو یعنی میں بڑے ادب سے عرض کروں گا کہ تشریحات تو مختلف ہوسکتی ہیں لیکن ممبران مجھے کمز ور سوالات مہیا نہ کریں۔اب اس سے کیا نتیجہ اخذ کیا جاسکتا ہے؟ صرف یہی کہ خود سوالات کرنے والا اس بات کا شکوہ کر رہا ہے کہ اسے کمزور سوالات مہیا کئے جا رہے ہیں۔اس پر سپیکر صاحب نے پھر ممبران سے صحیح طرح حوالہ جات پیش کرنے کی درخواست کی۔پھر ایک اور ممبر اسمبلی سردار مولا بخش سومر وصاحب نے کہا کہ کوئی جواب پانچ یا دس منٹ سے زیادہ کا نہیں ہونا چاہئے اور جب کتب یہاں پر موجود ہیں تو انہیں اس بات کی اجازت نہیں دینی چاہئے کہ وہ بعد میں اپنی کتب سے پڑھ کر جواب دیں گے۔سومرو صاحب کی یادداشت کچھ زیادہ مضبوط نہیں تھی۔وہ بھول گئے تھے کہ پہلے روز ہی اٹارنی جنرل صاحب