سلسلہ احمدیہ — Page 417
417 بعد تشریح و غیرہ کریں لیکن تحریری بیان نہ ہو۔سپیکر صاحب نے انہیں تسلی دلائی تو پھر مفتی محمود صاحب نے اپنے شکوے شروع کئے۔ان کا پس منظر یہ تھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے بعض الہامات اور کشوف اور رویا پر اعتراضات اُٹھائے گئے تھے۔ان کے جوابات دیتے ہوئے حضرت خلیفہ ایسیح الثالث نے احادیث سے بعض بزرگان کی تحریروں سے اور بعض غیر از جماعت احباب کی تحریروں سے کئی مثالیں سنائی دی تھیں کہ اس طرح کے کشف اور رویا تو بہت سے بزرگوں کو ہوتے رہے ہیں اور ان کی تعبیر کی جاتی ہے۔اب عقل کی رو سے جائزہ لیا جائے تو اس طرح کے جواب پر کوئی اعتراض نہیں اُٹھتا بلکہ ہر صاحب شعور اس علمی جواب کی قدر کرے گا۔مگر عقل اور شعور اس کمیٹی میں ایک جنسِ نایاب کی حیثیت رکھتی تھی۔مفتی صاحب کا اصرار یہ تھا کہ حضور کو روکا جائے کہ جب اس طرح کا کوئی اعتراض ہو تو وہ کوئی اور مثال پیش نہ کریں۔بھلا کیوں نہ کریں مفتی صاحب نے اس کی کوئی وضاحت نہیں کی۔مفتی محمود صاحب نے جو فرمایا وہ یہ تھا : ” جناب والا کل بھی یہ بات ہوئی تھی کہ وہ جواب لکھ کر لاتے ہیں اور پڑھ دیتے ہیں۔جب کسی بات کے متعلق سوال ہوتا ہے تو یہ اسی وقت سوال کر دیتے ہیں۔کشف کے متعلق سوال آیا تو وہ کشف کے مقابلے میں پانچ چھ مثالیں دے دیتے ہیں کہ فلاں نے یہ دیکھا اور ان کے جرم سے ہمارا جرم کم ہو جاتا ہے۔تو میں یہ کہتا ہوں کہ وہ کوئی مثال نہ دیں۔ایک سوال پوچھا جاتا ہے تو اس کا جواب آجاتا ہے۔اس لئے میں سمجھتا ہوں کہ اس طرح نہ کریں۔“ اب صرف اس جملہ کا جائزہ لیا جائے تو یہ عجیب صورت حال نظر آتی ہے کہ مفتی صاحب یہ امید لگائے بیٹھے تھے کہ اس کمیٹی میں جماعت احمدیہ پر ہر طرح کے اعتراضات تو کیے جائیں خواہ اس کے لیے جعلی اور خود ساختہ حوالے ہی کیوں نہ پیش کرنے پڑیں لیکن جماعت احمدیہ کی طرف سے کوئی خاطر خواہ دفاع نہ ہو۔یہ ان کی طبع نازک پر بہت گراں گزرتا تھا۔وہ شاید یہ امید لگائے بیٹھے تھے ان کے سوال کا کوئی جواب دیا ہی نہیں جائے گا۔اس کے جواب میں سپیکر صاحب نے یہ تبصرہ کیا کہ بہت سی غیر متعلقہ باتیں آرہی ہیں۔اب یہ سوچنے کی بات یہ ہے کہ آخر غیر متعلقہ باتیں کیوں آ رہی تھیں؟ وجہ ی تھی کہ کارروائی کو تیسرا دن گزر رہا تھا اور کمیٹی سوال پر سوال کئے جارہی تھی لیکن ابھی تک اس موضوع