سلسلہ احمدیہ — Page 384
384 نے اس کے جواب میں بجائے مصنف کا نام بتانے کے، کہا ” سوال کرنے والے نے کہا ہے کہ مرزا صاحب نے یہ کہا ہے اور یہ کتاب جو ہے۔۔۔‘اس کے بعد اور بات شروع ہوگئی اور حضرت خلیفہ اسیح نے واضح فرمایا کہ یہ کتاب (جس کے مصنف کا نام بھی بتایا نہیں جا رہا تھا ) ہمارے لیے اتھارٹی نہیں ہو سکتی۔اس کے بعد اٹارنی جنرل صاحب نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی دو کتب کے حوالہ جات پیش کیے تا کہ اپنی طرف سے ایک مضبوط دلیل پیش کی جائے۔چنانچہ انہوں نے کہا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتاب تحفہ گولڑویہ کے صفحہ ۳۸۲ کے حاشیہ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے تحریر فرمایا ہے پھر دوسرے فرقوں کو جو دعوئی اسلام کرتے ہیں بالکل ترک کرنا پڑے گا۔“ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ تحفہ گولڑویہ کے تو ۳۸۲ صفحات ہی نہیں ہیں۔البتہ اس کتاب کے ایک مقام پر جو اس قسم کا فقرہ آتا ہے وہاں پر یہ بحث ہی نہیں ہو رہی کہ کس کو مسلمان کہلانے کا حق ہے کہ نہیں وہاں تو یہ مضمون بیان ہورہا ہے کہ احمدیوں کا امام احمد یوں میں ہی سے ہونا چاہئے۔انہیں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مکذبین کے پیچھے نماز نہیں پڑھنی چاہئے۔یہاں پر یہ دلچسپ بات قابل ذکر ہے کہ جب ہم نے صاحبزادہ فاروق علی خان صاحب سے انٹرویو کیا تو انہوں نے کہا کہ بیٹی بختیار صاحب نے کتابیں پڑھ کر سوال کئے تھے۔اور اس ضمن میں انہوں نے خاص طور پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتاب تحفہ گولڑویہ کا نام لیا کہ بیٹی بختیار صاحب نے اس کتاب کو پڑھ کر سوال اٹھائے تھے۔اس سوالات کرنے والوں کی حالت کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ ایک کتاب کا ہی نام لیا جا رہا ہے کہ اس کو پڑھ کر سوال کئے گئے تھے اور اس کا جو ایک ہی حوالہ پڑھا گیا وہ بھی غلط نکلا۔پھر اس کے بعد یہ دلیل لائے کہ حقیقۃ الوحی کے صفحہ ۱۸۵ پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے تحریر فرمایا ہے کہ " کفر کی دو قسمیں ہیں ایک آنحضرت سے انکار دوسرے مسیح موعود سے انکار۔دونوں کا نتیجہ و ماحصل ایک ہے۔یہاں پر اٹارنی جنرل صاحب صحیح الفاظ پڑھنے کی بجائے کوئی اور الفاظ پڑھ رہے تھے اور یہ دیانتدارانہ طریق نہیں تھا۔وہ نہ صرف عبارت صحیح نہیں پڑھ رہے تھے بلکہ نامکمل پڑھ رہے تھے۔جب اٹارنی جنرل صاحب نے کہا کہ " کیا یہ درست ہے کہ مرزا غلام احمد نے اپنی 66