سلسلہ احمدیہ — Page 28
28 اور بڑا ہی مفید پروگرام ہے۔لیکن نہ جماعت کے دوستوں نے اس کی طرف پوری توجہ دی اور نہ فضل عمر فاؤنڈیشن کے منتظمین نے جماعت کو کما حقہ توجہ دلائی۔چنانچہ نتیجہ یہ نکلا کہ ایک سال ایسا بھی آیا کہ اس میں ایک مقالہ بھی معیاری نہیں تھا۔اور عملا کسی سال میں بھی پانچ دس سے زیادہ مقالے نہیں آئے۔۔۔اس سے پہلے ۱۹۶۹ء میں جو چند مقالے آئے تھے ان کے انعام کا فضل عمر فاؤنڈیشن نے اب تین سال کے بعد اعلان کیا ہے۔ظاہر ہے یہ بھی ایک انتظامی خرابی ہے۔جس کام کا نتیجہ جلد تر ممکن تھا اتنا جلد نہ نکلے تو اس میں حصہ لینے والوں کو کوئی خاص دلچسپی نہیں رہتی۔“ (۱۷) ۱۹۷۳ء کے جلسہ سالانہ کی تقریر میں آپ نے مقالوں کی طرف توجہ دلاتے ہوئے فرمایا لیکن بہت کم ہمارے نوجوانوں نے اس طرف توجہ کی۔اور بہت کم انعام انہوں نے حاصل کیا۔انعام تو کوئی غرض نہیں۔یہ تو ہم نے ایک راہ نکالی تھی کہ ہمارا تعلیم یافتہ نوجوان وہ دین کا سپاہی اس سرحد پر بھی لڑنے کی تیاری کرے گا کہ جو دوسروں کے اعتراضات اسلام پر ہیں اور خدا اور رسول کے متعلق وہ نا سمجھی کی باتیں کرتے رہتے ہیں ان کے جوابات مختلف مضامین کے ماتحت وہ نوجوان دے گا۔لیکن اس طرف ہماری جماعت بہت کم توجہ کر رہی ہے۔۔۔۔اُس نے کہا ہے کہ میں نے جماعت احمدیہ کے ذہن کو ساری دنیا پر غالب آنے کے لئے بنایا اگر جماعت احمدیہ کا ذہن علمی میدان میں ساری دنیا پر غالب آنے کے لئے کوشش ہی نہ کرے تو وہ ناشکرے کہلائیں گے۔وہ جاہل نہیں کہلائیں گے۔وہ نا اہل نہیں کہلائیں گے وہ ناشکرے کہلائیں گے۔کہ خدا نے ایک طاقت انہیں دی لیکن اس سے انہوں نے فائدہ نہیں اُٹھایا۔ہزاروں نو جوان۔دس اور پانچ مقالے دیگر آپ اس ذمہ داری سے عہدہ برآنہیں ہو سکتے۔میں تو حیران ہوں۔ہمارے پاس ہر مضمون کے متعلق پانچ سو مقالے آنے چاہئے تھے۔جو متحن بنتے اُن کو بھی پتہ لگے کہ احمدیوں کے دماغ کس طرح علم کی رفعتوں پر پرواز کرتے ہیں۔بہر حال اس طرف توجہ نہیں دی گئی۔اس طرف توجہ کرنی چاہئے بڑی ضروری بات ہے۔‘ (۱۸) فضل عمر فاؤنڈیشن کے آغاز سے لے کر ۲۰۱۰ ء تک کل ۱۲۹ مقالے وصول ہوئے ہیں جن میں