سلسلہ احمدیہ — Page 27
27 کہ جماعت میں تحقیق کی طرف رحجان پیدا ہو اور ایسی کتب اور مضامین شائع کئے جائیں جن کی بنیاد گہری تحقیق پر ہو۔آپ کی اس خواہش کو مد نظر رکھتے ہوئے فضل عمر فاؤنڈیشن نے تحقیقی مقالہ جات لکھوانے اور ان میں سے معیاری مقالہ جات کو انعامات دینے کا ایک پروگرام بنایا۔چنانچہ پہلے سال اس سکیم کے تحت ۳۷ مقالے وصول ہوئے۔۱۲ / جنوری ۱۹۶۸ء کو جلسہ سالانہ سے خطاب فرماتے ہوئے حضرت خلیفہ اسیح الثالث نے اُس وقت تک موصول ہونے والے مقالوں کی تعداد پر ان الفاظ میں اظہارِ خوشنودی فرمایا: وو یہ تعداد بڑی خوشکن ہے۔شکر ہے کہ جنہیں اہل قلم بننا چاہئے وہ اہل قلم بنے کی طرف متوجہ ہورہے ہیں۔(۱۵) اس کے بعد موصول ہونے والے مقالوں کی تعداد میں کمی آتی گئی۔اور یہ تعداد گر کر ایک سال میں دو تین مقالہ جات تک رہ گئی۔اور پھر اس میں مزید کمی آئی اور ۱۹۹۶ ء اور ۲۰۰۶ء کے درمیان صرف ۳ مقالے لکھے گئے۔( تاہم ذیلی تنظیموں کے تحت مقالہ جات لکھنے کا سلسلہ بھی جاری ہے) چونکہ جماعت احمدیہ کے لئے تحقیق اور تصنیف کا کام ایک خاص اہمیت رکھتا ہے اس لئے اس صورتِ حال میں حضرت خلیفہ اسیح الثالث نے احباب جماعت کو بار بار اس طرف توجہ دلائی کہ وہ تحقیق اور تصنیف کی طرف توجہ دیں۔چنانچہ آپ نے ۱۹۷۰ ء کے جلسہ سالانہ سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا: علمی اور تحقیقاتی تصانیف کا مقابلہ ہر سال ہوتا ہے۔۔زیادہ دوستوں کو اس طرف دو توجہ کرنا چاہئے۔ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اس وقت دوست صرف اس خیال سے اس میں حصہ لیتے ہیں کہ شاید ہمیں انعام مل جائے۔ایک ہزار روپیہ انعام کا لالچ نہ کریں۔جو اس طرف متوجہ ہوں گے ان کا علم بہت بڑھے گا۔کئی ہزار احمدی بی اے ہے یعنی بی اے یا بی اے سے اوپر جس کی تعلیم ہے مثلاً ایم اے یا ڈاکٹر وغیرہ یا جو اس سے زیادہ تعلیم سمجھی جاتی ہے ، ان کو توجہ کرنی چاہئے۔انعام ملے یا نہ ملے تحقیق کے بعد بڑی محنت سے راتوں کو جاگ کر اور کتب پڑھ کر مقالہ لکھنا یہ خود ایک انعام ہے۔(۱۶) ۱۹۷۲ء کے جلسہ سالانہ سے خطاب کرتے ہوئے آپ نے فرمایا: وو علاوہ ازیں انعامی مضامین لکھوانے کا پروگرام تھا جو فی نفسہ بڑا ہی اہم نہایت ضروری