سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 339 of 766

سلسلہ احمدیہ — Page 339

339 میں حضور کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے الہام ہوا : وَسِعُ مَكَانَكَ إِنَّا كَفَيْنكَ الْمُسْتَهْزِئِينَ یعنی اپنے مکان کو وسیع کر ، ہم استہزاء کرنے والوں کے لیے کافی ہیں۔اس پر آشوب دور میں اللہ تعالیٰ یہ خوش خبری عطا فرمارہا تھا کہ آج حکومت، طاقت اور اکثریت کے نشہ میں یہ لوگ جماعت کو ایک قابل استہزاء گر وہ سمجھ رہے ہیں۔لیکن ان سے اللہ تعالیٰ خود نمٹ لے گا۔جماعت احمدیہ کا یہ فرض ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے عطا ہونے والی ترقیات کے لیے اپنے آپ کو تیار کرے۔کوئی بھی غیر جانب دار شخص اگر بعد میں ظاہر ہونے والے واقعات کا جائزہ لے اور اس مختصر کتاب میں بھی ہم اس بات کا جائزہ پیش کریں گے کہ جن لوگوں نے بدنیتی سے اس کارروائی کو شروع کیا اور پھر بزعم خود احمدیوں کو کافر قرار دیا یا کسی رنگ میں بھی استہزاء کی کوشش کی حقیقت یہ ہے کہ صرف خدا کا ہاتھ تھا جس نے ان پر پکڑ کی اور ان کو دنیا کے لئے ایک عبرت کا سامان بنادیا۔یہ کی دنیاوی کوش کا نتیجہ ہیں تھا بلکہ خدا ان کی شرارتوں کے لئے کافی تھا۔اس کے علاوہ ۱۹۷۴ء کے پر آشوب دور میں حضرت خلیفة أسبح الثالث کو الہام ہوا فَدَمْـدَم عَلَيْهِمْ رَبُّهُمْ بِذَنْبِهِمْ فَسَوَّاهَا ( تب ان کے گناہ کے سبب ان کے رب نے ان پر پے در پے ضر میں لگائیں اور اس ( بستی ) کو ہموار کر دیا۔حضرت خلیفہ اسیح الثالث اسمبلی میں محضر نامہ پڑھتے ہیں ۲۲ اور ۲۳ جولائی ۱۹۷۴ء کو حضرت خلیفہ اُسیح الثالث نے پوری قومی اسمبلی پر مشتمل خاص کمیٹی میں جماعت احمدیہ کی طرف سے پیش کیا جانے والا محضر نامہ خود پڑھ کر سنایا۔اور اس کے بعد کارروائی کچھ دنوں کے لیے ملتوی کر دی گئی۔جیسا کہ پہلے ذکر آچکا ہے کہ اس محضر نامہ کے آخر پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی ایک پر شوکت تحریر درج کی گئی تھی۔اور جب حضور نے کمیٹی میں یہ حوالہ پڑھ کر سنایا تو اس کا ایک خاص اثر ہوا۔اور بعد میں ایک ممبر اسمبلی نے اپنے ایک احمدی دوست کیساتھ حیرت سے ذکر کیا کہ مرزا صاحب نے بڑے جلال سے یہ حوالہ پڑھ کر سنایا ہے۔اور جیسا کہ بعد میں ذکر آ ئے گا اس کا رروائی کے آخر میں ممبران قومی اسمبلی کے اصرار پر یہ سوال پوچھا گیا تھا کہ اس حوالہ کو