سلسلہ احمدیہ — Page 22
22 حضرت مرزا سلطان احمد صاحب کی لائبریری کی ڈیڑھ ہزار کتب بھی مرکزی لائبریری میں شامل کر دی گئیں اور لائبریری کو حضرت مرزا سلطان احمد صاحب کے دیوان خانے میں منتقل کر دیا گیا۔بہت سے غیر از جماعت احباب جب قادیان دیکھنے آتے تو ایک چھوٹے سے قصبہ میں اتنی وسیع لائبریری دیکھ کر حیران رہ جاتے۔جب ۱۹۴۷ء میں تقسیم ہند کا مرحلہ آیا تو قادیان کی جدائی کا زخم اُٹھانا پڑا۔تمام تر کوششوں کے باوجود حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی کتب میں سے تقریباً چھ ہزار جو کہ حضور کے کتب خانے کا دو تہائی حصہ تھا پاکستان پہنچائی گئیں۔حضور نے اپنے صاحبزادوں کو ان کتب کی با حفاظت منتقلی کے متعلق خاص ہدایات دی تھیں اورفرمایا تھا کہ یہی تو ہماری اصل جائیداد ہے اور حضرت خلیفۃ اسیح الاول" کے وسیع کتب خانے سے فقط ساڑھے چار ہزار کتب پاکستان منتقل کی جا سکیں۔اس وقت پورے پنجاب میں فسادات کی آگ بھڑک رہی تھی اور ہر طرف قتل و غارت کا بازار گرم تھا۔ان کتابوں کو لکڑیوں کی پیٹیوں میں بھر کر سرحد پر لایا جاتا اور وہاں سے کچھ کارکنان ان کو لاہور لے آتے۔یہ کتب لاہور سے پہلے چنیوٹ اور پھر ربوہ منتقل کی گئیں۔اُس پر آشوب دور میں جب درویشان قادیان محصوری کی حالت میں دن گزار رہے تھے ، کتب کی حفاظت کا مناسب انتظام نہ ہوسکا اور اس لائبریری کا ایک بڑا حصہ ضائع ہو گیا۔جب ربوہ آباد ہوا اور نئے مرکز میں مختلف ادارے قائم ہونے لگے تو ایک وسیع لائبریری کی ضرورت پہلے سے زیادہ محسوس کی جانے لگی۔۱۹۵۲ء کی مجلس شوریٰ میں حضرت مصلح موعودؓ نے جماعت کے لئے ایک وسیع لائبریری کی اہمیت اور اس کے انتظام اور لائبریرین کے فرائض پر تفصیل سے روشنی ڈالتے ہوئے احباب جماعت اور صدر انجمن احمدیہ کو ان کے فرائض کی طرف توجہ دلائی۔حضور نے فرمایا: دو لائبریری کے متعلق میرے نزدیک سلسلہ نے بہت بڑی غفلت برتی ہے۔لائبریری ایک ایسی چیز ہے کہ کوئی تبلیغی جماعت اس کے بغیر کام نہیں کر سکتی۔جہاں تک میں سمجھتا ہوں جب سے میری خلافت شروع ہوئی ہے۔کسی بڑے دفتر کے چپڑاسیوں پر جور تم خرچ ہو چکی ہے اتنی رقم لا بریری کے لئے انجمن نے خرچ نہیں کی۔ایک دو چپڑاسیوں کی رقم ہی جمع کر لو تو تمہیں فوراً پتا لگ جائے گا کہ اس بارہ میں کتنی بڑی غفلت اور کوتاہی سے کام لیا