سلسلہ احمدیہ — Page 23
23 گیا ہے، حالانکہ یہ اتنی اہم چیز ہے کہ ہمارے سارے کام اس سے وابستہ ہیں۔تبلیغ اسلام، مخالفوں کے اعتراضات کے جواب، تربیت۔یہ سب کام لائبریری ہی سے تعلق رکھتے ہیں۔اس وقت تک جتنا کام ہو رہا ہے یا تو حضرت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ کی لائبریری سے ہو رہا ہے۔اور یا پھر میری لائبریری سے ہو رہا ہے۔۔۔۔لیکن وہ جماعت جو ساری دنیا میں تبلیغ اسلام کے کام کے لئے کھڑی ہوئی ہے۔اس کے علوم کی بنیاد کسی دوسرے شخص کی لائبریری پر ہونا عقل کے بالکل خلاف ہے۔ہمارے پاس تو اتنی مکمل لائبریری ہونی چاہئے کہ جس قسم کی مکمل مذہبی لائبریری کسی دوسری جگہ نہ ہو۔مگر ہمارا خانہ اس بارہ میں بالکل خالی ہے۔‘ (10) اس کے بعد حضور نے لائبریرین کے کام کے دائرہ کار کی وضاحت کرتے ہوئے فرمایا کہ لائبریرین کے معنے محض کتابوں کی دیکھ بھال کرنے والے کے نہیں ہوتے بلکہ اس کے لئے ضروری ہوتا ہے کہ وہ مختلف مضامین کی کتابوں سے واقف ہو۔اور جب اس سے پوچھا جائے کہ فلاں فلاں مضمون پر کون کون سی کتابیں دیکھنی چاہئیں۔تو وہ فوراً ان کتابوں کے نام بتا سکے۔اور چاہئے کہ لائبریری میں ہرفن کے جاننے والے آدمی ہونے چاہئیں۔ان کا کام یہ ہو کہ وہ کتابیں پڑھتے رہیں اور خلاصے نکالتے رہیں۔اس کا فائدہ یہ ہوگا کہ جب لوگوں کو ان حوالوں کی ضرورت ہوگی ، وہ خلاصہ سے فوراً ضروری باتیں اخذ کر لیں گے۔حضور نے مثالیں دے کر واضح فرمایا کہ جب ایک تحقیق کرنے والا کسی موضوع پر تحقیق کرے گا تو وہ اس تحقیق سے متعلقہ مختلف موضوعات کے ماہرین کے پاس جائے گا اور یہ ماہرین اپنے اپنے مضمون کے حوالے سے اس کو ان کتب کا بتادیں گے جہاں سے اسے ضروری مواد مل سکتا ہے۔اور اس طرح کتاب لکھنے والا آسانی سے کتاب لکھ سکتا ہے۔گویا لڑنے والا حصہ اور ہوگا اور گولہ بارود تیار کرنے والا حصہ اور ہوگا۔کیا تم نے کوئی سپاہی ایسا دیکھا ہے جسے لڑائی پر جانے کا حکم ملے تو وہ کارتوس بنانا شروع کر دے۔کیا تم نے کبھی دیکھا کہ کسی کو مدرس مقرر کیا گیا ہو تو ساتھ ہی اسے یہ کہا گیا ہو کہ اب جغرافیہ پر ایسی کتاب لکھ دو جو پڑھانے کے کام آسکے۔ہمیشہ اصل کام والا حصہ اور ہوتا ہے اور تعاونی حصہ الگ ہوتا ہے۔مگر ہمارے ہاں چونکہ اس کا خیال نہیں رکھا جاتا اس لئے ہمارا علم ترقی نہیں کرتا۔حضور نے ارشاد فرمایا کہ اگر ہمارے پاس ایک لا کھ کتاب ہو تو ہمارے