سلسلہ احمدیہ — Page 20
20 اعتراضات کا جواب دیا جائے جو ہر طرف سے اسلام پر کئے جارہے تھے۔ظاہر ہے کہ اس عظیم الشان کام کیلئے وسیع پیمانے پر کتب کی ضرورت ایک لازمی بات تھی۔اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو ایک ایسے علم دوست گھرانے میں پیدا کیا ، جس نے نسلاً بعد نسل ہزاروں کتب کا ایک ذخیرہ قادیان میں جمع کیا تھا۔اگر چہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے دادا مرزا عطا محمد صاحب کے زمانے میں جب رام گڑھی سکھوں نے دھوکا سے شب خون مار کر قادیان پر قبضہ کیا تو اس خاندانی کتب خانے کو بہت نقصان پہنچا اور بہت سی کتب چاک کر دی گئیں۔صرف قرآنِ مجید کے پانچ سو نسخے جلائے گئے (۸) لیکن اس عظیم نقصان کے باوجود خاندانی کتب خانے کا ایک حصہ محفوظ رہا جو ہزار ہا کتب پر مشتمل تھا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو بچپن سے مطالعہ کا اس قدر شوق تھا کہ آپ کے والد اس خوف سے آپ کو منع فرماتے تھے کہ کہیں آپ کی نظر پر اثر نہ پڑے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے جب جوانی کی دہلیز پر قدم رکھا تو ہندوستان پر عیسائیت کی یلغار شروع ہو چکی تھی اور ہر طرف مذہبی مناظروں کا میدان گرم تھا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام ہر وقت مذہبی کتب کے مطالعہ میں منہمک رہتے تھے۔آپ تحریر فرماتے ہیں کہ ان دنوں میں مجھے کتابوں کے دیکھنے کی طرف اس قدر تو جہ تھی کہ گویا میں دنیا میں نہ تھا۔“ (روحانی خزائن جلد ۱۳ ص ۱۸۱ حاشیہ) اسی طرح حضرت خلیفتہ المسیح الاول رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو کتابوں کا بہت شوق تھا۔آپ نے بے تحا شار و پیہ خرچ کر کے کتب کا ایک خزانہ جمع فرمایا تھا۔آپ کو خود بھی مطالعہ کا شوق تھا اور دوسرے ضرورت مند بھی آپ کے کتب خانے سے استفادہ کرتے تھے۔۔جب آپ ہجرت کر کے قادیان آئے تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے شروع میں ، جبکہ ابھی خود آپ کو بھی معلوم نہیں تھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا منشاء یہ ہے کہ اب آپ قادیان میں ہی مستقل سکونت رکھیں ، آپ کو اپنا کتب خانہ بھیرہ سے قادیان منتقل کرنے کا ارشاد فرمایا۔ایک اندازے کے مطابق آپ کے کتب خانے میں ہیں تمہیں ہزار کتب موجود تھیں۔جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی زندگی میں ، ایک دشمن اسلام نے کتاب امہات المؤمنین شائع کی۔اس کتاب میں آنحضرت ﷺ کو او باشانہ انداز میں گالیاں دی گئی تھیں اور آپ کے