سلسلہ احمدیہ — Page 237
237 ثابت ہوئیں۔اور یہ جلس مشاورت مارچ ۱۹۷۴ء میں منعقد ہوئی تھی اور جیسا کہ ہم جائزہ لیں گے کہ فروری ۱۹۷۴ء میں لاہور میں اسلامی سربراہی کا نفرنس منعقد ہوئی تھی اور جماعت کو یہ اطلاع موصول ہوئی تھی کہ اس موقع پر جماعت احمدیہ کے خلاف لٹریچر تقسیم کیا گیا تھا۔اور پوری دنیا نے اپنے وقت پر یہ دیکھا کہ یہ محض خدشات نہیں تھے بلکہ ایک وسیع پیمانے پر جماعت احمدیہ کے خلاف ایک سازش تیار کی جارہی تھی۔حسب روایت حضور کے افتتاحی خطاب کے بعد سب کمیٹیوں کی تشکیل کی گئی اور صد سالہ جو بلی منصوبہ کے لئے جو سٹینڈ نگ سب کمیٹی بنی وہ بارہ افراد پر مشتمل تھی۔حضرت خلیفہ اسیح الثالث نے مکرم و محترم شیخ محمد احمد صاحب مظہر کو اس کا صدر اور مکرم و محترم چوہدری حمید اللہ صاحب کو سیکر یٹری مقرر فرمایا۔اس سب کمیٹی نے دورانِ شوری دو اجلاسات منعقد کئے اور پھر مشاورت میں یہ رپورٹ پیش کی کہ سب کمیٹی یہ محسوس کرتی ہے کہ اس عظیم الشان منصوبہ کی تفصیلات طے کرنے سے قبل بہت سی معلومات اکٹھی کرنے اور اس سب کمیٹی کے مختلف اجلاسات منعقد کرنے کی ضررورت ہے تا ہم حضور کے بیان فرمودہ شقوں میں سے مندرجہ ذیل شقوں پر فوری عمل درآمد شروع کرنے کی پیش کش کی جاتی ہے۔۱) کینیڈا میں ایک مضبوط تبلیغی اور تربیتی مرکز کا قیام۔اس سفارش پر حضور نے ارشاد فرمایا: اس کے علاوہ سویڈن اور ناروے میں بھی ایسے مراکز قائم کئے جائیں۔۲) مرکز سلسلہ میں سر دست عربی ، فرانسیسی اور سپینش سکھانے کا انتظام کیا جائے۔) سورۃ فاتحہ کی مختصر تفسیر مع متقن جو کہ آٹھ دس صفحات پر مشتمل ہوان ۲۲ زبانوں میں شائع کی جائے۔عربی ، فارسی، جاپانی، چینی، روسی، جرمن، سپینش ، فرانسیسی ، ڈچ، ٹرکش، اٹالین ، ڈینش، یونانی، سواحیلی ، ہاؤسا، یوروبا، ویتنامی، انڈونیشین ، ملائی، ہندی، بنگلہ اور یوگوسلاویا کی زبان میں۔زبان سکھانے اور سورۃ فاتحہ اور اس کی مختصر تفسیر کے منصوبے کو حضور نے منظور فرمایا۔اس کے ساتھ یہ تجویز بھی تھی مکرم مولانا ابوالعطاء صاحب، مکرم مولا نا ملک سیف الرحمن صاحب اور مکرم میر محمود احمد ناصر صاحب اس کا مسودہ تیار کر کے حضور کی خدمت میں پیش کریں۔اس پر حضور نے ارشاد فرمایا کہ اس کی ضرورت نہیں۔