سلسلہ احمدیہ — Page 234
234 کہیں نہیں۔لیکن اب اس جلسہ کے بعد ہمارے سامنے بین الاقوامی اتحاد کے ساتھ مخالفت آگئی ہے۔میں نے خدا کا شکر کیا ہمیں تو اس وقت پتہ نہیں تھا کہ اس کی کیا شکل بن رہی ہے لیکن میں نے کہا کہ کہ ہمارے لئے اس کی ضرورت ہوگی۔اللہ تعالیٰ نے اس کا انتظام کر دیا اور ہمیں بشارتیں بھی دیں جیسا کہ ایک بشارت میں نے ابھی بتائی ہے اور بھی بشارتیں بھی ہوئیں۔اس کے ساتھ ہی بعض اور چیزیں سامنے آئیں ہیں۔ایک چیز یہ سامنے آئی ہے جو کہ بڑی افسوسناک ہے اور بڑا صدمہ ہوتا ہے کہ ایک اسلامی ملک نے جو اپنے آپ کو اسلام کا چیمپین سمجھتا ہے ہالینڈ کے شدید کٹر مخالفین اور دشمنانِ اسلام کے ساتھ گٹھ جوڑ کر کے یہ پراپیگینڈا کرنا شروع کیا ہے کہ جماعت احمد یہ اسلام کی نمائندہ نہیں ہے اس لئے اپنے سکولوں اور اپنے چرچز میں ان کی تقریریں نہ کروایا کرو (وہاں کلیساؤں میں بھی ہماری تقریریں ہوتی ہیں) اور نہ اپنے سکول کے بچوں کو ان کی مساجد میں بھیجو۔ان کو تو مسلمان بھی کا فر کہتے ہیں یہ کہاں کے اسلام کے نمائندے ہیں۔غرض اسلام کا جو اپنے آپ کو بہت ہمدرد اور بڑا دوست اور چیمپیئن سمجھنے والا ملک ہے اس نے شدید دشمنانِ اسلام سے مل کر یہ منصو بہ بنایا ہے۔ایک تو یہ چیز سامنے آئی ہے۔دوسرے یہ چیز سامنے آئی ہے کہ مکہ سے ایک رسالہ نکلتا ہے ” دی مسلم ورلڈ لیگ اس میں ہمارے خلاف تین مضمون لکھے گئے ہیں۔یہ رسالہ ہمیں ولایت سے بھجوایا گیا ہے۔ایک مضمون لکھا ہے ابوحسن علی ندوی صاحب نے اور ایک مضمون لکھا ہے ابوالاعلیٰ مودودی صاحب نے اور ایک مضمون جماعت احمدیہ کے خلاف لکھا ہے شیخ محمد الخضر حسین صاحب نے اور تینوں میں سے کسی ایک نے بھی اس شرافت کا مظاہرہ نہیں کیا کہ مضمون لکھنے سے پہلے ہم سے تبادلہ خیال کر لیتے۔یہ تو انسان کا حق ہے کہ اگر کسی کی طرف بات منسوب کرنی ہو تو پہلے اس سے جا کر بات تو کرنی چاہئے۔۔۔پس ہمارا اعتراض اول یہ ہے کہ اگر تو تم خود کوعلماء سمجھتے ہو تو جماعت احمدیہ کے علماء سے تبادلہ خیال کرو اور پھر اگر تمہیں سمجھ نہ آئے اور نا مجھی کی باتیں لکھو گے تو تو تم پر یہ اعتراض نہیں ہو گا کہ تم نے تبادلہ خیال کے بغیر یہ مضامین لکھے اور اگر تم اپنے آپ کو کسی جماعت کا لیڈر اور امام سمجھتے ہو تو جماعت احمدیہ کے امام سے جا کر باتیں کرو اور پھر اگر اس کے بعد جو