سلسلہ احمدیہ — Page 225
225 اشتہارات کی اشاعت کی طرف بھی توجہ دلائی۔حضور نے فرمایا کہ دنیا کے حالات ایسے ہیں کہ کبھی کچھ ہوتا ہے اور کبھی کچھ ہوتا ہے، اس لیے ہمیں ایک جگہ پر اچھے پر لیس پر انحصار نہیں کرنا چاہئے۔اس لئے ہمیں پاکستان میں اعلیٰ مرکزی پیمانے کے پریس کے علاوہ دنیا کے کسی اور دو مقامات پر جو اس کام کے لیے مناسب ہوں وہاں دو اچھے پریس لگانے چاہئیں۔حضرت خلیفہ اسیح الثالث نے فرمایا کہ حضرت مسیح موعود کے سپر د ایک اہم کام یہ ہوا تھا کہ ساری دنیا کے انسانوں کو امت واحدہ بنایا جائے۔دنیا کو امت واحدہ بنانے کے لیے تدابیر کرنی چاہئیں اور دعائیں بھی کرنی چاہئیں۔حضور نے فرمایا کہ جو تدابیر اس وقت تک میرے ذہن میں آچکی ہیں ان میں ٹیلیفون، ٹیلیکس اور ریڈیو کلب کے ذریعہ مختلف جماعتوں کے درمیان آپس میں رابطہ کا منصوبہ ہے۔اس کے علاوہ بین الاقوامی قلمی دوستی کے ذریعہ ایک دوسرے سے رابطہ سے بھی ہزاروں ایک دوسرے سے خط و کتابت کر سکتے ہیں۔اور پھر مرکز سلسلہ میں جلسہ سالانہ پر اقوام عالم کے وفود کی شرکت کا جو نظام جاری ہوا ہے اسے مضبوط کیا جائے۔عالم اسلام کو اتحاد عمل کی دعوت حضور نے صد سالہ منصوبے کا پانچواں حصہ بیان کرتے ہوئے فرمایا۔اور اس منصوبہ کی آخری بات جو میں کہنا چاہتا ہوں وہ یہ ہے کہ امت محمدیہ فرقے فرقے میں بٹ گئی ہے۔۔لیکن جہاں تک عقیدہ کا سوال ہے اور زبان سے اقرار کا تعلق ہے ہم سب خدائے واحد و یگانہ پر ایمان لانے والے ہیں۔ہم محمد ﷺ کا کلمہ پڑھتے ہیں۔ہم لا اله الا الله محمد رسول اللہ کہنے والے ہیں۔محمد رسول اللہ ﷺ کو خاتم النبین مانتے ہیں۔ہر فرقہ خاتم النبیین کے معنے مختلف کر جائے گا لیکن کوئی شخص کھڑے ہو کر یہ نہیں کہہ سکتا کہ وہ محمد رسول اللہ ﷺ کو خاتم النبین نہیں مانتا۔خاتم النبین کے عقیدہ میں ہم سب متحد ہیں۔۔۔۔یہ ہمارا مشتر کہ عقیدہ ہے۔ہم قرآنِ کریم کو ایک کامل اور مکمل کتاب مانتے ہیں۔یہی ہمارے سب فرقوں کا عقیدہ ہے۔تمام فرقے قرآنِ کریم کو قیامت تک کے لئے ہدایت نامہ سمجھتے ہیں۔