سلسلہ احمدیہ — Page 202
202 (۱) قومی ڈائجسٹ جون ۱۹۸۴ ص ۳۷-۳۸(۲) الفضل ۱۲ جون ۱۹۷۳ء (۳) ماہنامہ الحق اپریل مئی ۱۹۷۳ ء ص ۳ تا ۵ کشمیر اسمبلی میں جماعت احمدیہ کے خلاف قرارداد آئین میں شامل کئے گئے حلف ناموں سے یہ ظاہر ہوجاتا تھا کہ سیاستدانوں کا ایک طبقہ، آئین اور قانون میں ایسی تبدیلیاں کرنا چاہتا ہے جن کے نتیجے میں نہ صرف کہ اپنی دانست میں احمدیوں کو غیر مسلم قرار دیا جائے بلکہ احمدیوں کو ان کے بنیادی حقوق سے بھی محروم کر دیا جائے اور انہیں دوسرے درجہ کا شہری بنانے کی کوشش کی جائے۔اور چونکہ الیکشن میں ان جماعتوں کو مکمل شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا جن کو عرف عام میں مذہبی جماعتیں کہا جاتا ہے، اس لئے انہیں نئی سیاسی زندگی پانے کے لئے کسی ایسے مسئلہ کو چھیڑنے کی ضرورت تھی جس کی آڑ میں وہ اپنے سیاسی مردے میں کچھ جان پیدا کر سکیں۔اور جیسا کہ ہم ۱۹۵۳ء کی شورش کا جائزہ لیتے ہوئے یہ دیکھ چکے ہیں کہ ان پارٹیوں کو صرف اپنے سیاسی مفادات سے غرض ہوتی ہے۔ان حرکات سے ملک وقوم کو کتنا نقصان پہنچے گا، یہ لوگ اس کی کوئی پرواہ نہیں کرتے۔ابھی پاکستان کے آئین کو اسمبلی سے منظور ہوئے ایک ماہ بھی نہیں گزرا تھا کہ اس سازش کے آثار مزید واضح ہو کر نظر آنے لگے۔اس مرتبہ یہ فتنہ کشمیر اسمبلی میں سر اُٹھا رہا تھا۔اس وقت سردار عبد القیوم صاحب کشمیر کے صدر تھے اور سردار قیوم صاحب ایک عرصہ سے جماعت احمدیہ کے خلاف سرگرمیوں میں حصہ لے رہے تھے۔کشمیر کی اسمبلی ۲۵ اراکین پر مشتمل تھی۔ان میں سے 11 اراکین کا تعلق حزب اختلاف سے تھا اور ۲۹ اپریل ۱۹۷۳ء کو ان اراکین نے کسی وجہ سے اسمبلی کا بائیکاٹ کیا ہوا تھا۔اس بائیکاٹ کے دوران حکومتی گروہ کے ایک رکن اسمبلی میجر ایوب صاحب نے ایک قرار داد پیش کی جس کے متعلق روزنامہ مشرق نے یہ خبر شائع کی: آزاد کشمیر اسمبلی نے ایک قرار داد منظور کی ہے جس میں حکومت آزاد کشمیر سے سفارش کی گئی ہے کہ قادیانیوں کو اقلیت قرار دیا جائے۔ریاست میں جو قادیانی رہائش پذیر ہیں ان کی با قاعدہ رجسٹریشن کی جائے اور انہیں اقلیت قرار دینے کے بعد ان کی تعداد کے مطابق مختلف شعبوں میں ان کی نمائندگی کا یقین کرایا جائے۔قرارداد میں کہا گیا ہے کہ ریاست