سلسلہ احمدیہ — Page 201
201 کے عطا کردہ حقوق کی نفی کرتی ہیں۔اور آگے چل کر اسلامی قانون کی کئی اہم دفعات اور تقاضوں کے نفاذ کے لئے سد راہ بن سکتی ہیں۔مثلاً ا۔کوئی مسلمان اپنا مذہب تبدیل نہیں کر سکتا۔۲۔اسلامی مملکت میں ارتداد اور اس کی تبلیغ کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔۳۔غیر مسلموں پر ٹیکس جزیہ لگانے کی گنجائش ہے۔غلامی کے بارہ میں مخصوص حالات میں گنجائش ہے۔۵۔عورت حدود اور قصاص جیسے معاملات میں حج نہیں ہوسکتی۔۔نہ اس کی قضا کئی ایسے امور میں معتبر ہے۔نہ حدود اور قصاص میں اس کی شہادت معتبر ہے۔۸۔نہ وہ اسلامی سٹیٹ کی سربراہ بن سکتی ہے۔۹۔نہ کھلے بندوں مردوں کی تفریح گاہوں اور مخلوط اجتماعات میں آجا سکتی ہے۔۱۰۔دو عورتوں کی شہادت ایک مرد کے برابر ہے۔۱۱۔غیر مسلم اور ذمی قاضی اور حج نہیں بن سکتا۔۱۲۔نہ وہ اسلامی آئین سازی کرنے والے اداروں مقننہ یا دستور ساز اداروں کا رکن بن سکتا ہے بالخصوص جب اسمبلی کو اس بات کا پابند کیا گیا ہو کہ وہ کتاب وسنت کے مطابق قانون سازی کرے اس لئے اسلام ملازمتوں اور انتخابی عہدوں میں امتیاز ناگزیر سمجھتا ہے۔جبکہ موجودہ بنیادی حقوق غیر مسلم اقوام ( جو مرتدین کو بھی شامل ہے ) کو نہ صرف صدارت ، وزارت عدلیہ کی سربراہی ، افواج اسلامی کی کمان تک عطا کرنے پر بھی قدغن نہیں لگاتے۔۱۴۔اسلام کی نگاہ میں کلیدی مناسب پر فائز ہونا تو بڑی بات ہے کسی غیر مسلم شہری کی مسلمانوں کے خلاف شہادت بھی معتبر نہیں۔‘(۳) گویا ان علماء کے نزدیک صحیح اسلامی نظام تبھی آسکتا تھا جب غلامی کی مشروط اجازت ہو، اسلام نے غلامی کے ختم کرنے کی ابتدا کی تھی۔عورتوں کو نہ صرف کلیدی عہدوں پر نہ لگایا جائے بلکہ وہ پبلک تفریحی مقامات پر بھی نہیں جاسکتیں۔اور اگر چہ یہ مولوی حضرات جس سے مذہبی اختلاف ہو گا اس کے خلاف تو زہر اگلیں گے لیکن جس کو یہ غیر مسلم سمجھیں گے اسے اس بات کی ہرگز اجازت نہیں ہوگی کہ وہ ان کو دلائل سے جواب دے۔غیر مسلم کو نہ صرف کسی کلیدی عہدے پر مقرر نہیں کیا جائے گا بلکہ کسی مسلمان کے خلاف اس کی گواہی بھی قبول نہیں کی جائے گی۔یہ لغو خیالات نہ صرف بنیادی انسانی حقوق کے خلاف ہیں بلکہ ان کا اسلام کی تعلیمات سے دور کا بھی واسطہ نہیں۔