سلسلہ احمدیہ — Page 107
107 دنیاوی طاقت اس خدائی تقدیر کی راہ میں روک نہیں بن سکتی۔آپ نے فرمایا کہ مغربی افریقہ کے ممالک میں جماعتیں قائم کرنے سے ہمارا کوئی ذاتی مقصد نہیں۔ہم ان ممالک سے ایک پائی باہر نہیں لے کر جاتے۔جو آمد ہوتی ہے انہی ممالک کی بہبود پر خرچ ہوتی ہے۔ہم مدارس اور طبی مراکز کھولتے ہیں جن سے ان ممالک کے باشندے ہی فائدہ اُٹھاتے ہیں۔اس موقع پر حضور نے فرمایا کہ جماعت لائبیریا کے دارالحکومت منر دو یا میں ایک میڈیکل سینٹر اور ایک سکول کھولنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ایک سوال کے جواب میں حضور نے فرمایا کہ ہماری جماعت کا بحیثیت جماعت سیاست سے کوئی تعلق نہیں۔ہماری جماعت کا یہ اصول ہے کہ حکومت وقت کی اور قانون کی اطاعت کی جائے۔ہم تو مذہبی جماعت ہیں۔اس سفر میں کانو ( نائیجیریا) میں متعین جماعت کے مشنری ڈاکٹر مکرم ضیاء الدین صاحب بیمار ہو گئے۔ان کو سانس کی تکلیف ہو گئی۔حضور نے از راہ شفقت ان کو ہدایت فرمائی کہ بستر سے باہر نہ نکلیں اور خود دن میں کئی مرتبہ ان کے کمرے میں جا کر ان کی عیادت فرماتے رہے اور پر یس کا نفرنس کے بعد بھی خود جا کر ان کی عیادت فرمائی۔پریس کانفرنس کے بعد حضور نے اسی کمرہ میں جماعت کے عہد یداران کی ایک میٹنگ میں شرکت فرمائی۔حضور نے اس میٹنگ میں جماعتی عہد یداروں کو تبلیغی ، تعلیمی اور طبی کام کی توسیع اور ترقی کے بارے میں ہدایات دیں اور جس منصوبہ کے تحت کام کرنا تھا اس کی تفاصیل پر روشنی ڈالی اور فرمایا کہ اصل مقصد تو خدمت ہونا چاہئے۔جماعت احمدیہ کے عہد یداران نے اپنی مشکلات حضور کے سامنے رکھیں۔حضور نے اس پر مد کا وعدہ فرمایا اور فرمایا کہ انشاء اللہ ہمارا قدم آگے ہی بڑھے گا۔اسی رات کو صدر لائبیریا نے حضور کے اعزاز میں ایک دعوت کا اہتمام کیا۔اس میں تقریر کرتے ہوئے صدر مملکت نے کہا: " آج ہماری خوش قسمتی ہے کہ اس زمانے کے روحانی بادشاہ ہمارے درمیان تشریف فرما ہیں۔آپ کی تشریف آوری ہمارے لئے باعث عزت ہے۔آپ ایک عظیم روحانی شخصیت ہیں۔آپ کو قرب الہی حاصل ہے۔میں آپ کو خوش آمدید کہتا ہوں۔“ اس موقع پر حضور نے بھی ایک مختصر تقریر فرمائی اور معز ز میزبان کا شکریہ ادا کیا اور اہل لائبیریا کو