سلسلہ احمدیہ — Page 673
673 اللہ تعالیٰ نے ماریشس میں انقلاب پیدا کیا۔ہمارے مبلغ اسماعیل منیر جو بڑے مخلص کارکن ہیں لیکن جسمانی لحاظ سے بڑے کمزور ہیں۔چوبیس گھنٹے کام کرنے والے ہیں اور صحیح وقف کی روح ان کے اندر ہے۔دوست ان کو اپنی دعاؤں میں یاد رکھیں۔ابھی وہاں پہنچ نہیں تھے۔یہاں سے روانہ ہو گئے تھے۔اس وقت مجھے رؤیا میں ایک نظارہ دکھایا گیا اور اس کی صحیح تعبیر اس وقت میرے ذہن میں نہیں آئی تھی۔میرے ذہن میں اس وقت دو تعبیریں آئیں کہ یا تو یوں ہوگا یا یہ دوسری شکل اختیار کرے گا۔اگر پہلی تعبیر ہوتی تو اس میں اندار کا پہلو بڑا نمایاں تھا۔اور دوسری تعبیر میں تبشیر کا پہلو نمایاں تھا۔اور اس بات کا پتہ لگنا تھا ان کے وہاں پہنچنے پر کہ اس کی اصل تعبیر کیا ہے۔اللہ تعالیٰ کی توفیق سے ان دنوں میں بہت دعائیں کرتا رہا کہ اللہ تعالیٰ اس رؤیا کے انذاری پہلو سے ہمیں محفوظ رکھے۔جس وقت وہ وہاں پہنچ گئے تو انذاری پہلو کا واقع ہونا ناممکن بن گیا۔تب مجھے سمجھ آئی کہ اس رؤیا کی وہی تعبیر صحیح تھی جو تبشیری رنگ اپنے اندر رکھتی ہے۔میں نے انہیں اس وقت لکھ دیا تھا کہ میں نے یہ رویا دیکھی ہے اور میں سمجھتا ہوں کہ یہ واقعہ اس طرح ہوگا۔چنانچہ اللہ تعالیٰ نے اس کے مطابق وہاں کچھ تبدیلیاں کرنی شروع کی ہیں۔وہ جماعت خدا تعالیٰ کے فضل سے بڑی فعال ہے۔بڑے پیسے خرچ کرتی ہے۔۔خود کفیل ہے۔ان کے اخلاص اور مستعدی کا آپ اس سے اندازہ لگائیں کہ شاید یہاں بھی لوگ اس کی جرات نہ کر سکیں۔کنکریٹ یعنی سیمنٹ اور لوہے کی چھت جو ایک خاص قسم کی ہوتی ہے۔اس کے نیچے ایک عارضی چھت بنائی جاتی ہے۔پھر اس کے اوپر سلیب ڈالا جاتا ہے۔وہاں کے مشن ہاؤس پر اس قسم کا چھت وہاں کے احمدیوں نے وقار عمل کے ذریعہ سے ڈالا اور مزدوری پر ایک پیسہ بھی ضائع نہیں کیا۔“ تریولے میں جماعت کی مرکزی مسجد روز بل سے ۱۶ میل دور واقع تھی۔یہاں پر ایک اور مسجد کا سنگ بنیاد کافی عرصہ پہلے رکھا گیا تھا لیکن تعمیر نہیں ہوئی تھی۔۱۹۷۱ء میں اس مسجد کی تعمیر دوبارہ شروع ہوئی اور احباب جماعت نے وقار عمل کے ذریعہ اس کی تعمیر میں حصہ لیا۔(۱) ماریشس سے مڈغاسکر میں بھی تبلیغی مساعی ہو رہی تھی۔۱۹۷۱ ء میں بھی یہاں سے ایک دوست کو