سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 672 of 766

سلسلہ احمدیہ — Page 672

672 یوگینڈا ۱۹۶۶ء کے دوران مغربی یوگینڈا کے شہر مساکا (Masaka) میں مسجد کی تعمیر مکمل ہوئی۔خلافت ثالثہ کے دوران جماعت احمد یہ یوگینڈا کے دو اہم واقعات لوگینڈ از بان میں قرآنِ مجید کے ترجمہ کی اشاعت اور عیدی امین کے زمانے میں جماعت احمدیہ پر لگائی جانے والی پابندی تھی۔ان واقعات کا ذکر پہلے گزر چکا ہے۔جب عیدی امین کے زوال کے بعد جماعت احمدیہ کے افراد نے ایک بار پھر آزادانہ کام شروع کیا تو آہستہ آہستہ جماعتی سرگرمیوں کا آغاز ہوا۔خلافت ثالثہ کے دوران یوگینڈا کے متعدد ا حباب جامعہ احمد یہ ربوہ سے تعلیم حاصل کر کے واپس یوگینڈا آئے اور عملی میدان میں اپنی خدمات کا آغاز کیا۔ان میں سے پہلے مکرم محمد علی کا ئرے صاحب تھے جنہوں نے ۱۹۷۹ء میں یوگینڈا میں اپنی عملی خدمات کا آغاز کیا۔اس دور میں ججہ کی جماعت سب سے بڑی جماعت تھی۔اور جماعتیں زیادہ تر ملک کے جنوبی حصہ میں قائم تھیں۔اور ملک کے دارالحکومت کمپالا میں بھی جماعت کی ایک مسجد مشن ہاؤس، اور سکینڈری سکول قائم تھے۔ملک کے مغرب میں مسا کا میں بھی جماعت کا مشن ہاؤس اور مسجد موجود تھے۔خلافت ثالثہ کے دوران مکرم صوفی محمد الحق صاحب، مکرم چوہدری محمود احمد صاحب، مکرم راجہ نصیر احمد صاحب نے بطور مبلغ خدمات کی توفیق پائی۔گی آنا ۱۹۶۹ء میں برٹش گی آنا میں ایک مسجد کی تعمیر ہوئی اور دوسری مسجد کے لئے پلاٹ خریدا گیا۔اور ڈچ گی آنا میں اسی سال میں ایک سکول کا اجراء کیا گیا۔(۱) (۱) خطاب جلسہ سالانہ حضرت خلیفہ مسیح الثالث ۲۷ دسمبر ۱۹۹۹ء ماریشس خلافت ثالثہ کے آغاز میں مکرم مولا نا محد اسماعیل منیر صاحب کو بطور مبلغ ماریشس بھجوایا گیا ان کے متعلق حضرت خلیفہ اسیح الثالث نے ۱۲ جنوری ۱۹۶۸ء کو جلسہ سالانہ کے خطاب میں فرمایا۔