سلسلہ احمدیہ — Page 646
646 کروائی لیکن ویزا کی مدت میں توسیع نہ ہوسکی اور انہیں تنزانیہ آنا پڑا۔پھر حکومت نے ان کے ویزے میں توسیع کر دی اور وہ دوبارہ زیمبیا آگئے۔اور لوسا کا میں ایک نہایت سستی جگہ کرایہ پر لے کر مشن کا کام شروع کیا۔بدقسمتی سے کچھ مسلمانوں کا یہ طریق ہوتا ہے کہ وہ ہر موقع پر جماعت احمدیہ کے خلاف زہر اگل کر اپنے دل کی بھڑاس نکالتے ہیں۔اسی دور میں ساؤتھ افریقہ کے مسلمانوں کے مشہور عالم اور مناد احمد دیدات (Ahmad Deedat) یہاں کے دورے پر آئے۔ان کے آنے سے قبل زیمبیا میں مقیم گجراتیوں نے بہت بڑے بڑے اشتہار شائع کرنے شروع کئے اور بعض نے یہ افواہیں اڑانی شروع کیں کہ وہ یہاں پر آکر احمدیت کے خلاف پر چار کریں گے۔جب احمد دیدات صاحب زیمبیا آئے تو مکرم شیخ نصیر الدین احمد صاحب نے ان سے ملاقات کی اور ان سے ان افواہوں کا ذکر کئے بغیر اسلام کی پر امن تعلیم اور جماعت کے خلاف اڑائی جانے والی جھوٹی افواہوں کا ذکر کیا۔اس پر احمد دیدات صاحب نے خوشی کا اظہار کیا اور اپنے دورے کے دوران کسی اختلافی مسئلہ کو ہوا دینے کی کوشش نہیں کی۔بلکہ واقعہ صلیب کا ذکر بھی آیا تو صرف یہ کہا کہ قرآن کی رو سے حضرت عیسی کو قتل کیا گیا اور نہ ان کو صلیب دی گئی تھی۔(۲) (۱) الفضل یکم نومبر ۱۹۸۱ ، ص ۵ (۲) الفضل ۱۲ دسمبر ۱۹۸۱، ص ۵٫۴ کینیڈا میں جماعت اور مشن کا قیام ۱۹۵۶ ء۔۱۹۵۷ء میں بعض احمدیوں نے کینیڈا کے شہر ٹورونٹو میں سکونت اختیار کی۔۱۹۶۱ء میں مکرم صاحبزادہ مرزا مبارک احمد صاحب وکیل اعلی تحریک جدید نے مکرم عبد القادر رضیغم صاحب مبلغ امریکہ کے ہمراہ مشن کے قیام کا جائزہ لینے کی غرض سے کینیڈا کا دورہ کیا۔دسمبر ۱۹۶۴ء میں ڈیٹن کے مبلغ عبدالحمید صاحب نے وہاں کے حالات کا جائزہ لینے کے بعد مرکز کو لکھا کہ ٹورونٹو اور مانٹریال میں احمدی موجود ہیں اور یہاں جماعت کا قیام عمل میں آ سکتا ہے۔چنانچہ مکرم میاں عطاء اللہ صاحب اس جماعت کے پہلے پریذیڈنٹ مقرر ہوئے۔اس وقت یہ جماعت مبلغ انچارج امریکہ کی نگرانی میں