سلسلہ احمدیہ — Page 645
645 نومبر ۱۹۷۵ء میں مقامی احمدیوں نے حضرت خلیفہ اسیح الثالث کی خدمت میں ایک مبلغ بھیجوانے کی درخواست کی۔جس کے بعد مکرم مولا نا محمد منور صاحب ۱۹۷۷ء میں یوگینڈا سے ملحقہ صوبے ہوٹ زائرے (Haut Zaire) پہنچے۔زیمبیا میں مشن کا قیام ۱۹۵۸ء میں محترم مولانا محمد منور صاحب زیمبیا میں مشن کے قیام کا جائزہ لینے کے لئے زیمبیا گئے اور دو ماہ وہاں قیام کیا۔اس وقت وہاں پر کچھ ایشیائی احمدی موجود تھے اور ان کی خواہش تھی کہ زیمبیا میں مشن کھولا جائے۔۱۹۷۰ ء میں حضرت خلیفتہ اسیح الثالث" جب مغربی افریقہ سے واپس تشریف لا رہے تھے تو زیمبیا کے وزیر صحت اور برطانیہ میں زیمبیا کے سفیر نے آپ سے ملاقات کی۔اور حضور نے اس خواہش کا اظہار فر مایا کہ ہم زیمبیا میں اپنا مشن کھولنا چاہتے ہیں۔چنانچہ زیمبیا کے لئے پہلے مبلغ مکرم شیخ نصیر الدین احمد صاحب مقرر ہوئے۔جب آپ حضرت خلیفہ اسیح الثالث سے الوداعی ملاقات کرنے کے لئے آئے تو حضور نے اپنے دست مبارک سے یہ نوٹ لکھا: اللہ تعالیٰ آپ کے ساتھ ہو اور توفیق دے کہ وہ جس رنگ اور جس شکل میں ایک احمدی مجاہد کو دیکھنا چاہتا ہے اس رنگ اور شکل میں وہ آپ کو ہمیشہ پائے۔(۱) آپ ۱/۱۴ کتوبر کو زیمبیا کے دارالحکومت پہنچے۔انہیں ویزا کے لئے بہت سی مشکلات پیش آئیں مگر پھر وزٹ ویزامل گیا۔زیمبیا پہنچنے کے تیسرے روز اتفاقاً ان کی ملاقات دی ٹائمنز آف زیمبیا کے ایک نمائندے سے ہوئی۔اس کو جب معلوم ہوا کہ آپ یہاں پر اسلام کی تبلیغ کے لئے آئے ہیں تو اس نے اسی وقت آپ کو اپنے دفتر لے جا کر انٹر ویولیا جو اگلے روز کے اخبار میں شائع ہوا۔اور اسی روز آپ کو ایک شخص ملا جس نے کسی اور ملک میں جماعت کا فرانسیسی لڑ پچر پڑھا تھا اس نے اسی وقت بیعت کر کے احمدیت قبول کر لی۔ان کا نام محمد اور لیس تھا اور وہ بعد میں ربوہ بھی تشریف لائے۔کچھ عرصہ کے بعد شیخ نصیر الدین احمد صاحب ان کے گھر میں ہی منتقل ہو گئے۔اور میں صاحب کی تبلیغ سے کچھ عیسائیوں نے اسلام قبول کر لیا۔مکرم شیخ نصیر الدین احمد صاحب نے بڑی تگ و دو سے اس ملک میں جماعت کی رجسٹریشن