سلسلہ احمدیہ — Page 618
618 احمد یہ سٹوڈنٹس ایسوسی ایشن کا قیام جیسا کہ ہم پہلے ذکر کر چکے ہیں کہ حضرت طلیقہ اسیح الثالث کی شدید خواہش تھی کہ احمدی طلباء تعلیم کے میدان میں پوری دنیا سے آگے نکل جائیں اور اپنے اندر اسلامی اخلاق پیدا کر کے اسلام کی خدمت کریں۔اور اس طرح جماعت کی نئی پود اسلام کی خدمت کے لئے کما حقہ تیار ہو سکے۔ظاہر ہے کہ اس کے لئے طلباء کی تعلیم وتربیت اور تنظیم پر خاص توجہ دینے کی ضرورت تھی۔احمدی طلباء کی تنظیم احمد یہ سٹودنٹس ایسوی ایشن کا قیام بھی اس سلسلہ کی ایک کڑی تھی۔اس کی تنظیم رفتہ رفتہ شروع ہوئی اور حضرت خلیفۃ اسیح الثالث نے حضرت صاحبزادہ مرزا طاہر احمد صاحب کو اس کا پہلا سر پرست مقرر فرمایا۔ابتدائی دنوں میں پنجاب یونیورسٹی لاہور اور لاہور کے دیگر کالجوں کے احمدی طلباء نے اس تنظیم کے لئے نمایاں خدمات سرانجام دیں۔مکرم منور نعیم صاحب اس ایسوسی ایشن کے پہلے صدر تھے۔اور آپ کے بعد مکرم چوہدری کریم الدین صاحب نے احمدیہ سٹوڈنٹس ایسوسی ایشن کے صدر کے فرائض سرانجام دیئے۔اور جلد ہی لاہور کے علاوہ فیصل آباد اور دوسرے شہروں میں اس ایسوسی ایشن کی شاخیں قائم ہوگئیں۔اس تنظیم کا ایک اہم سنگ میل پہلا سالانہ کنونشن تھا جونومبر ۱۹۸۰ء میں ربوہ میں منعقد ہوا اور حضرت خلیفہ اسیح الثالث نے اس کنونشن سے خطاب فرمایا۔جب حضرت خلیفہ اسیح الثالث خطاب فرماتے تو یہ محض ایک رسمی خطاب نہیں ہوتا تھا بلکہ اس میں ایک بے تکلف گفتگو کا رنگ پایا جاتا تھا اور اس موقع پر موجود طلباء کو انتہائی ادب سے بیٹھے ہوتے تھے لیکن یہی محسوس کرتے تھے جیسے وہ اپنے ایک دوست کی مجلس میں موجود ہیں۔حضور نے اس خطاب کو بھی رسمی انداز میں شروع کرنے کی بجائے ایک لطیف انداز میں شروع فرمایا۔حضور نے فرمایا:۔قرآنِ کریم نے اس عظیم کائنات Universe کے متعلق جو بنیادی حقائق ہمارے سامنے رکھے ہیں ان میں سے ایک بہت ہی اہم بنیادی حقیقت یہ ہے کہ اس کائنات کی، کہ یہ منتشر اجزا کا مجموعہ نہیں بلکہ ایک منطقی مجموعہ ہے۔یعنی ہر چیز کا، کائنات کی ہر چیز کا، میں کہہ رہا ہوں کائنات کی ہر چیز کا دوسرے کے ساتھ ایک تعلق ہے اور یہ اصول توازن پر