سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 52 of 766

سلسلہ احمدیہ — Page 52

52 ہیں۔پس میں چاہتا ہوں کہ تمام دوست اس سفر کے متعلق دعائیں کریں اور خدا تعالیٰ سے خیر کے طالب ہوں۔اگر یہ سفر مقدر ہو تو اسلام کی اشاعت اور غلبہ کے لئے خیر و برکت کے سامان پیدا ہوں۔خدا جانتا ہے کہ سیر و سیاحت کی کوئی خواہش دل میں نہیں ، نہ کوئی اور ذاتی غرض اس سے متعلق ہے۔دل میں صرف ایک ہی تڑپ ہے اور وہ یہ کہ میرے رب کی عظمت اور جلال کو یہ تو میں بھی پہچانے لگیں جو سینکڑوں سال سے کفر اور شرک کے اندھیروں میں بھٹکتی پھر رہی ہیں اور انسانیت کے محسن اعظم محمد رسول اللہ ﷺ کی محبت ان کے دلوں میں قائم ہو جائے۔(۱) حضور نے ۶ / جولائی ۱۹۶۷ء کو یورپ کے لئے روانہ ہونا تھا۔۴ جولائی کو آپ نے ربوہ وو میں لجنہ اماءاللہ کے ہال میں احمدی مستورات سے خطاب فرمایا۔آپ نے فرمایا:۔۔میرا یہ سفر بڑا ہی اہم ہے۔میں اہلِ یورپ کو یہ بتانا چاہتا ہوں کہ ان کے لئے اب تباہی سے بچنے کا ایک ہی ذریعہ ہے اور وہ یہ کہ وہ اپنے خدا کو پہچانیں اور حضرت صلى الله محمد رسول اللہ ﷺ کی ٹھنڈی چھاؤں تلے جمع ہو جائیں۔آپ یہ بھی دعا کریں کہ ان باتوں کو میں احسن طریق پر وہاں پیش کر سکوں تا بیچنے والے بچ جائیں اور جو تباہ ہونے والے ہوں وہ دوسروں کے لئے عبرت بنیں اور دنیا کو پتہ چل جائے کہ ایک زندہ اور قادر مطلق خدا موجود ہے۔ہر چیز اس کے علم میں ہے۔دنیا اور انسان کی ہمدردی کی خاطر وہ وقوع سے قبل یہ باتیں بتادیتا ہے تا لوگ اس کی طرف رجوع کریں اور اس کے غضب سے بچ جائیں۔آپ یہ بھی دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ میری زبان میں اثر پیدا کرے تا ان کے دل صداقت کو قبول کریں اور وہ اللہ تعالیٰ کے غضب کی بجائے رحمت کو پانے والے ہوں۔(۲) روانگی سے ایک روز قبل ہزاروں احمدی مسجد مبارک ربوہ میں جمع تھے۔حضور نے خلافت کے ساتھ دلی وابستگی اور اطاعت کی اہمیت نیز اس کی عظیم الشان برکات کا اختصار سے ذکر کرنے کے بعد اس امر پر روشنی ڈالی کہ اللہ تعالیٰ اپنے جس بندہ کو منصب خلافت پر فائز کرتا ہے۔ایک طرف اس کے دل میں اپنے متبعین کے لئے ہمدردی و غمخواری کا بے پناہ جذ بہ پیدا کر دیتا ہے۔جس کے تحت وہ ہر دم