سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 563 of 766

سلسلہ احمدیہ — Page 563

563 لاتعلق کر لیا ہے۔اس سے عدالت کے غصہ میں اضافہ ہو گیا۔بھٹو صاحب کی طرف سے گواہوں پر جرح بھی بند کر دی گئی۔لیکن بھٹو صاحب کے پاس ایک موقع آنا تھا جب انہیں اپنے دفاع میں بولنے کا موقع ملنا تھا۔یعنی جب عدالت میں ان کا بیان لیا جانے کا وقت آئے گا۔جب ۲۴ /جنوری ۱۹۷۸ء کو بھٹو صاحب کے بیان کا پہلا دن آیا اور بھٹو صاحب کمرہ عدالت میں داخل ہوئے تو وہ یہ دیکھ کر حیران رہ گئے کہ کمرہ عدالت میں حج اور وکلاء تو موجود تھے لیکن سامعین موجود نہیں تھے۔کورٹ روم خالی تھا۔انہیں استفسار پر بتایا گیا کہ اب سے مقدمہ کی کارروائی In Camera ہوگی۔اس سے پہلے لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس مولوی مشتاق صاحب نے ایک پریس کانفرنس میں کہا تھا کہ کارروائی دن کی روشنی میں ہوگی اور اب جب کہ بھٹو صاحب کے جواب کا وقت آیا تو فیصلہ کیا گیا کہ کارروائی خفیہ ہوگی۔بھٹو صاحب نے اس پر شدید احتجاج کیا۔انہوں نے کہا کہ نہ صرف انصاف ہونا چاہئے بلکہ یہ نظر بھی آنا چاہئے کہ انصاف ہو رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ آپ اسے انصاف کہتے ہیں۔آپ اسے مقدمہ چلانا کہتے ہیں۔یہ بھی بھول جائیں کہ میں ملک کا صدر اور وزیر اعظم رہا ہوں۔اسے بھی بھول جائیں کہ میں ملک کی سب سے بڑی پارٹی کا سر براہ ہوں۔ان سب چیزوں کو بھول جائیں لیکن میں پاکستان کا شہری تو ہوں اور میں قتل کے مقدمے کا سامنا کر رہا ہوں۔ایک عام آدمی کو بھی انصاف کے حصول سے نہیں روکا جاتا۔بھٹو صاحب کو اس بات پر بہت اعتراض تھا کہ جب کہ ان کے خلاف پیش ہونے والے گواہوں کے بیان کو سر عام سنا گیا اور ان کے بیانات کی پوری طرح تشہیر ہوئی لیکن جب اس بات کی باری آئی کہ وہ جواب دیں تو خفیہ کاروائی شروع ہو گئی۔انہوں اس بات کا تذکرہ اپنی کتاب ۱۴۱ am assassinated میں بھی کیا ہے۔وہ لکھتے ہیں "When I protested on the conversion of my trial for murder from open proceeding to in camera trial for my defence somehow I could not make clear to judges the differences between publicity and justice۔I was demanding a public trial because the concept