سلسلہ احمدیہ — Page 547
547 :4 اصل ربوہ کی سکیم بھی اسی مقصد یعنی کم آمدنی والوں کے لئے تھی اس پر ایک اور سکیم کم آمدنی والے لوگوں کے لئے بنائی گئی اور کم آمدنی والے لوگوں کو ہی ان کے حق سے محروم کیا گیا۔:5 Land Acquistion Collector (Housing and Physical Planning) نے زمین کا قبضہ حاصل نہ کیا ہے اور نہ جولوگ قابض ہیں ان کو نوٹس دیئے گئے ہیں۔ہمارے وکیل کی بار بار کی درخواست کے باوجود کہ Acquistion کی کارروائی اور :6 Notices کی مسل ہمیں دکھائی جائے لیکن نہیں دکھائی گئی۔:7 قریب ہی صنعتی شہر چنیوٹ میں کافی خالی زمین موجود ہے وہاں آسانی سے کم آمدنی والوں کے لئے کالونی بنائی جاسکتی ہے۔اس بنیاد لینے کی وجہ یہ تھی کہ عام طور کم آمدنی والوں کی کالونیاں ایسی جگہوں پر بنائی جاتی ہے جو صنعتی علاقوں کے پاس ہوں۔:8 اس سکیم کے تحت زمین کم آمدنی والوں کے لئے لی جارہی ہے جبکہ حقیقت یہ ہے کہ 10 مرلہ کے پلاٹوں کے مالکان سے زمین لے کر ایک کنال کے پلاٹ الاٹ کئے جار ہے ہیں۔جس سے ظاہر ہو رہا ہے کہ سکیم بد نیتی پر مشتمل ہے۔-1 رٹ 575/1976 میں جو مزید بنیادیں لی گئی ہیں وہ ذیل میں درج ہیں: ربوہ میں زمین Acquire کرنے کی تجویز احتجاج کرنے والوں کی طرف سے اس غلط بنیاد پر دی گئی تھی کہ ربوہ ایک بندشہر ہے اسے کھلا شہر قراردیا جائے۔رٹ کے واقعات تحریر کرتے ہوئے پس منظر میں ربوہ ریلوے اسٹیشن کے واقعہ کا ذکر کیا گیا اور سارے پاکستان میں فسادات کا بھی ذکر کیا گیا تھا۔یہاں احتجاج کرنے والوں سے وہ فسادی لوگ مراد ہیں۔2۔اس امر سے بھی اس بات کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ احتجاج کرنے والوں کا کتنا اثر مقامی انتظامیہ پر تھا کہ ربوہ میونسپل کمیٹی کی حدود میں دفعہ 144 گا کر ہر قسم کی تعمیر پر پابندی لگائی گئی تھی۔اخبارات میں بیان چھپا ہے کہ یہ زمین صرف مسلمانوں کے لئے لی جارہی ہے یعنی ان مسلمانوں کے لئے جو قانون کی نظر میں مسلمان ہیں یعنی جو قانون کی نظر میں مسلمان نہیں ہیں ان کے -3